خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 746 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 746

خطبات طاہر جلدے 746 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء ضرورتوں کو ہمارے کام کرنے کی توفیق سے ایک نسبت ہے۔جتنے جتنے مخلصین کام کرنے کے لئے مہیا ہوتے چلے جاتے ہیں ان کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ایسی ضرورتیں سامنے آجاتی ہیں جن میں وہ خدمت سرانجام دے سکتے ہیں اور اس کے ساتھ پھر روپے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ایسی ساری ضرورتیں لازماً خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے پوری ہوتی ہیں۔کبھی بھی خلیفہ وقت خالی ہاتھ ہو کر نہیں بیٹھ سکتا کہ یہ ضرورت سامنے آئی ہے اس کے لئے خدمت گار بھی موجود ہیں لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اس لئے میرا کامل ایمان ہے اور میرا تجربہ ہے اس تجربہ کی روشنی میں میں سمجھتا ہوں کہ میرا ایمان بالکل درست اور سچا ہے کہ جماعت احمد یہ اپنے کام کی توفیق بڑھائے خدا تعالیٰ اسے پورا کرنے کے لئے ذرائع ضرور مہیا فرمائے گا۔لیکن کام کی تو فیق بڑھانے کے لئے اخلاص کی تو فیق بڑھانی چاہئے اور مخلصین کی تعداد بڑھانی چاہئے۔اس لئے تحریک جدید کا چندہ ہو یا دوسرے چندے ہوں ہمیں زیادہ زور اس بات پر دینا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ چندہ دہندگان کی تعداد بڑھتی رہے کیونکہ مجھے یقین بھی ہے اور تجربہ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جولوگ خدا کی راہ میں مالی قربانی میں حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں دو باتیں ان کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ان کے اندر خدمت کا جذ بہ بھی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں بھی برکت دیتا ہے اور ان کے رزق میں بھی برکت دیتا ہے۔تو یہ قطعی اور یقینی چیز ہے اس میں کسی اندازے اور تخمینے کی بات نہیں ہے۔اس لئے جماعت نے اگر ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور کام بہت زیادہ ہیں تو یہی ایک طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مخلصین کی تعداد بڑھا کر پیش کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں کام کی نئی نئی راہیں بھی آپ پر کھولتا چلا جائے گا اور ان راہوں پر چلنے کی تو فیق بھی خود عطا فرما تارہے گا۔ارِنَا مَنَاسِكَنَا ( البقرہ:۱۲۹) کی ایک دعا قرآن کریم میں درج ہے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا سے عرض کیا کہ اے خدا! مجھے میری قربان گاہیں دکھا ، وہ طریق بتا جس سے میں قربانیاں پیش کروں۔اس کا حقیقی معنوں میں مفہوم اس شخص پر ظاہر ہوتا ہے جو قربان گاہوں کی تلاش میں آگے بڑھتا ہے اور پھر معلوم کرتا ہے کہ خدا کی توفیق کے بغیر قربان گاہیں بھی نصیب نہیں ہوا کرتیں۔اس نسبت سے جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ فہم عطا فرمایا ہے جو حقیقی عرفان ہے کہ قربان گاہوں کو بڑھانے کے لئے دعا مانگنے کا مطلب کیا ہے۔جوں جوں آپ یہ دعا کریں گے اور اخلاص