خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 729
خطبات طاہر جلدے 729 خطبه جمعه ۲۸ را کتوبر ۱۹۸۸ء نہیں کی ہوتی یا ایسے گھروں میں پرورش پائی ہوتی ہے جہاں کرختگی روزمرہ کی عادت ہے۔ خاوند کی بیوی سے بدسلوکی ، بیوی کی خاوند سے بدسلوکی ۔ یہ روز مرہ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ تو ایسے گھروں میں پلنے والے ان بچوں کو آپ محض قصور وار قرار دے کر رد کر دیں اور یہ سمجھ لیں کہ ناظر امور عامہ تھانے دار بن کر ہر وقت ان بچوں کے خلاف کاروائیاں کرتا رہے گا یا ان کو خدام الاحمد یہ پکڑ کے بدنی سزائیں دے گی یا اور کئی قسم کی ان کے خلاف تعزیری کاروائیاں کی جائیں گی ۔ یہ درست بات نہیں ہے ۔ آپ کی سوچ ہی بگڑی ہوئی ہے اس صورت میں ۔ اصلاح ہمدردی اور حسن سے پیدا ہوتی ہے قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے حسن کے بغیر برائی دور نہیں ہو سکتی اور یہ رد عمل جس کی مثال آپ کے سامنے پیش کی ہے یہ حسین رد عمل نہیں ہے یہ ایک ظالم رد عمل ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے سب سے پہلے تو جو تربیت کے ذمہ دار ہیں ان کی تربیت ضروری ہے ان کو خود اپنی تربیت کرنی چاہئے ، اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہئے اپنے دل کو ٹول کر دیکھنا چاہئے کہ اس قسم کے جب وہ نظارے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں ان بیچارے نوجوانوں کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے یا نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اگر نفرت پیدا ہوتی ہے تو وہ لوگ خود بیمار ہیں ان بیچاروں کی کیا اصلاح کریں گے۔ پھر جب آپ دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ویڈیوز لے کر جاتے ہیں ہندوستان کے گانوں کی فلمیں یا یورپ کی بعض فلمیں اور اکٹھے ہو کر کہیں دیکھتے ہیں تو بعض لوگوں کو آگ لگ جاتی ہے کس قدر تباہی پھیل گئی ہے، اڈے بنے ہوئے ہیں ، امور عامہ کچھ نہیں کر رہی ، خدام الاحمد یہ کچھ نہیں کر رہی ، انصار اللہ کچھ نہیں کر رہی ، صدران محلہ بے پرواہ ہیں ۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان میں سے جو متمول ہیں ان کے گھروں میں بھی ٹیلی ویژنز ہیں ، ان کے گھروں میں بھی سہولتیں ہیں ، ان کی کمزوریوں پر ان کے حالات نے پردہ ڈالا ہوا ہے، ان کی اقتصادی حالت نے پردہ ڈالا ہوا ہے اور وہ لوگ بھی گھر میں روزانہ ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان سے زیادہ کرتے ہیں جن کو بھی مہینے میں ایک دفعہ کوئی ویڈیو مل گئی بیچاروں کو ۔ پھر وہ جب لوگ گزر رہے ہوتے ہیں گلیوں سے کہیں سے گانے کی آواز آرہی ہوتی ہے بعض لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں کہ دیکھو جی ! یہاں ربوہ میں گانے گائے جا رہے ہیں۔ اور بہت سے ایسے گھر بھی ہیں جو اتنے وسیع ہیں کہ ان کے گھروں سے گانوں کی آوازیں باہر نہیں جاتیں۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کو ایسی نئی قسم کی بجلی کی مصنوعات میسر ہیں کہ کانوں میں اس کی ایک