خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 730
خطبات طاہر جلدے 730 خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۸۸ء تار کی ٹوٹی دے دی اور کسی کو بھی آواز نہیں جائے گی اپنے آرام سے بیٹھے جو مرضی سنتے رہیں۔تو حقیقت پر نظر ر کھے بغیر محض تنقید سے اصلاح نہیں ہوسکتی۔یہ ٹھیک ہے کہ گانوں کے اوپر کسی زمانے میں جماعت میں بہت سختی ہوا کرتی تھی اور بعض لوگ ان میں سے ایسے ہیں جن کو قادیان کے وہ زمانے یاد آ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں جی دیکھو! قادیان میں فلاں جگہ گانے کی آواز آئی تھی تو امور عامہ نے یہ کام کیا تھا ان کو گھروں سے نکال دیا تھا، ان کی دکانیں بند کرا دی تھیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ کون سا ماحول تھا اور یہ کون سا ماحول ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تربیت یافتہ صحابہ کی نسلیں تھیں جن کے والدین نے اپنے گھروں میں سوائے تلاوت یا پاکیزہ نظموں کے کچھ بھی نہیں سنا ہوا تھا ان کی نسلیں جب نرمی اختیار کر رہی تھیں تو اس سے بہت اجنبیت پیدا ہوتی تھی ماحول میں اور جو ماحول دوسرا ہندوستان کے معاشرے کا تھا وہ بھی اتنا بد نہیں تھا۔اب صورتحال اس سے بالکل مختلف ہے۔ان میں سے بہت سے جو نو جوان آج ہمارے شہروں میں یا محلوں میں آباد ہیں جو احمدی بھی ہیں ان میں سے بھاری اکثریت ایسی ہے جنہوں نے اعلیٰ بزرگوں کی تربیت حاصل نہیں کی۔ربوہ میں بھی اردگرد سے ، صرف اردگرد سے نہیں بلکہ سارے پاکستان سے بلکہ اس سے باہر سے بھی بہت سے ایسے لوگ آباد ہوئے ہیں جا کر جن کا اپنا تربیتی پس منظر بہت کمزور ہے۔ایسے لوگ جو مشرقی افریقہ سے وہاں گئے یا انگلستان سے گئے یا اور دوسرے ملکوں سے گئے انہوں نے اپنے ماحول میں اس سے بہت زیادہ گانے سنیں ، رقص و سرور دیکھے فلمیں روز مرہ چلتی دیکھیں اور ان کے نزدیک یہ کوئی برائی نہیں تھی۔وہ یہ ساری چیزیں نہ سہی ان میں سے کچھ چیزیں لے کر ربوہ پہنچ گئے۔پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا اقتصادی بدحالی کی وجہ سے بہت سے آراموں سے یہ لوگ محروم ہیں۔نہ ان کے گھروں میں پیچھے ہیں، نہ ان کے گھروں میں علیحدہ بیٹھنے کی جگہیں ہیں، نہ ان کو اچھا کھانا میسر ہے۔ان بیچاروں کی عیاشی کی انتہا یہ ہے کہ اچھا گاناسن لیں اور جب وہ سنتے ہیں تو آپ ان کو ایسی غضب کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ تباہ ہو گئے ہیں یہ لوگ ، ذلیل لوگ ہیں انہوں نے ساری دنیا کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور جماعت احمدیہ کے اوپر داغ لگ گئے ہیں، ان کو ز بر دستی جس طرح جلا د گندے عضو کو کاٹ کے پھینکتا ہے ان کو کاٹ کر اپنے معاشرے سے الگ کر دو۔یہ غیر حقیقی