خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 715
خطبات طاہر جلدے 715 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء خدا کے نزدیک تو مومن کو یہ مقام اور مرتبہ ہے کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے اور دھوکا نہیں کھاتا۔يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ مَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ (البقرہ :۱۰) کوشش کرتے ہیں وہ لوگ خدا اور خدا والوں کو دھوکا دینے کی لیکن نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اتنے ہوشیار ہوتے ہیں مومن اللہ کے بندے کہ ان کے دھوکے کو الٹا دیتے ہیں اور وہ لوگ بالآخر خود دھوکا کھانے والے ثابت ہوتے ہیں۔پس اس مضمون کو سمجھتے ہوئے میں نے جماعت کو متنبہ کیا کہ آپ کو اگر یہ شک ہے کہ شاید وہ مصیبت زدہ ہے تو آپ فوری طور پر مجھ سے رابطہ کریں یار بوہ تحریک جدید سے رابطہ کریں۔نظام جماعت کا یہی تو فائدہ ہے ایک۔ایک تو نہیں کہنا چاہئے فوائد میں سے ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ ساری دنیا کی خبروں اور قابل اعتماد خبروں کا ایک نظام مہیا ہو چکا ہے۔آپ مجھے لکھ دیں، مجھ سے فون پر بات کر لیں کہیں کہ اس طرح ایک مصیبت زدہ ہے۔ان لوگوں کو میں جانتا ہوں خود اور میں آپ کو اسی وقت بتادوں گا کہ یہ صاحب ایسے نہیں ہیں یہ دھوکا دے رہے ہیں یا اگر مصیبت زدہ ہیں تو اس حد تک مدد کر دی جائے۔اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے لیکن جب میں نے یہ اقدام کئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے امن آگیا وہ شخص پھر جہاں جہاں بھی گیا وہاں سے یہی رپورٹ ملی ہے کہ جماعت نے رد کر دیا ہے اس کو بالکل ناکام ہو کر اس کو واپس جانا پڑا۔جو نقصان کر بیٹھا تھا وہ کر بیٹھا تھا۔پس اس قسم کی بیدار مغزی کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ نظام جماعت کو بعض موقعوں پر ایسے اقدامات کرنے پڑیں گے لیکن اقدامات کرنے سے پہلے نصیحت کا پورا حق ادا کر دیں۔میں یہ آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کیونکہ ہماری نیت ہرگز کسی کو دکھ دینا نہیں ہے کسی کو تکلیف پہنچا نہیں ہے، کسی کی بدنامی کرنا نہیں ہے، اگر ہماری نیت میں یہ فتور داخل ہوجائیں تو پھر نیکی کی حفاظت کرنے کے ہم اہل ہی نہیں رہتے۔بدی سے بچانے کی ہم میں صلاحیت ہی باقی نہیں رہے گی۔یادرکھیں ! انـــمـــا الاعمال بالنيات ( بخاری کتاب بدء الوحی حدیث نمبر :1) میں یہ مضمون بھی بیان ہو گیا ہے کہ آپ کے اعمال خواہ وہ بظاہر نیک مقاصد کی خاطر ہوں اگر آپ کی نیتوں میں فتور داخل ہو گیا ہے تو وہ اعمال آپ کے ناکارہ ہو جائیں گے۔اس لئے اس موقع پر یہ نصیحت کرنا اور خوب کھول کر یہ بات بھی آپ کے سامنے رکھنا