خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 714
خطبات طاہر جلدے 714 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء سے بددیانتی ہے۔آپ کی بددیانتی انسانی قدروں سے بددیانتی ہے، یہ ان ذمہ داریوں سے بددیانتی ہے جو جماعت احمدیہ پر ڈالی گئی ہے۔اس لئے ہر احمدی کا یہ فرض ہے صرف نظام جماعت کا فرض نہیں ہے کہ ان چیزوں کے خلاف خوب نگران بن جائیں۔باریک نظر سے اپنے ماحول کا مطالعہ کرتے رہیں جہاں دیکھیں کہ کوئی فتنہ پیدا ہو رہا ہے وہاں اس کی بیخ کنی کا انتظام کرے بیشتر اس کے کہ کوئی فتنہ پیدا ہوئے جائے اس لئے Preventive Medicine دنیا کا بہترین دفاع ہے برائیوں کے خلاف یعنی پیشتر اس کے کہ برائیاں جڑ پکڑیں آپ نگران ہوں کہ برائیاں جڑ نہ پکڑ سکیں ان کو صاف کر دیا جائے۔مالی لحاظ سے میرے نزدیک یہ بہت ہی زیادہ بیدار مغزی کے ساتھ ہمت کے ساتھ مستقل مزاجی کے ساتھ کام کی ضرورت ہے۔اگر کوئی ایسا شخص نظام جماعت کے علم میں آتا ہے جو نصیحت کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تو ایک اس کا علاج یہ ہو سکتا ہے کہ مجھ سے پوچھ کر تمام احباب جماعت کو مطلع کر دیا جائے کہ یہ صاحب اگر آپ سے قرض مانگتے ہیں یا قرض لینے میں آپ سے مدد مانگتے ہیں تو اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ خود ذمہ دار ہیں اور نظام جماعت پھر ذمہ دار نہیں ہوگا اور اس وارنگ کے بعد اس تنبیہ کے بعد قضاء میں بھی آپ کا کوئی مقدمہ نہیں سنا جائے گا۔اس قسم کا ایک شخص ایک دفعہ نہیں بار بار نکلتے رہتے ہیں لیکن ایک شخص ایسا تھا جس کی اطلاع آنی شروع ہوئی کبھی وہ سنگا پور سے نکلتا تھا کبھی ملائیشیا میں ظاہر ہوتا تھا، کبھی انڈونیشیا سے اس کی خبر آتی تھی وہ پھر رہا ہے اور لوگوں سے پیسے مانگ رہا ہے اور کہانیاں بتا رہا ہے کہ میں اس طرح نکلا تھا اس طرح مجھے ضرورت پیش آگئی جماعت کا پتا لے کر میں حاضر ہوا ہوں ایک بیچارے مسافر کی مدد کرو اور پیسے کھاتا چلا گیا۔جب مجھے ایک جماعت سے اطلاع ملی اسی وقت میں نے ساری دنیا کی جماعتوں کو نوٹس دیا کہ اس قسم کے آدمی جاتے ہیں آپ یہ سوچتے ہیں کہ اوہو یہ تو بھائی کا اخلاقی فرض ہے ایک مسافر کی ذمہ داری قرآن کریم میں بھی بیان فرما گئی ہے، زکوۃ کے مقاصد میں اس کو رکھا گیا ہے۔اس لئے نیکی کی خاطر اس کی مدد کی جائے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ مسافر کی مددفرما و جو مصائب کا شکار ہو گیا ہو۔یہ نہیں فرمایا کہ دھو کے باز کی مددفرماؤ اور دھو کے باز کے دھو کے میں آجایا کرو۔مومن تو خدا کے نور سے دیکھتا ہے اتقوا فراسة المومن فانه ينظر بنور الله ( ترندی کتاب تفسیر القرآن حدیث نمبر :۳۰۵۲) اللہ نے آنحضرت ﷺ کو بتایا تب آپ نے ہمیں یہ خبر دی۔اپنی طرف سے آپ یہ کلام نہیں فرمایا کرتے تھے۔تو