خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 716
خطبات طاہر جلدے 716 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کے متعلق اپنے نفوس کا بھی جائزہ لیا کریں کیا آپ انتقامی کاروائی کرنا چاہتے ہیں ، کیا آپ اس کو ذلیل و رسوا کرنا چاہتے ہیں، کیا آپ اس شخص سے نفرت کرتے ہیں یا محض اس کی بدی سے نفرت ہے اور اس سے پیار ہے؟ اور ان دو چیزوں میں آپ کو ہمیشہ فرق کرنا پڑے گا۔مومن بدیوں سے نفرت کرتا ہے اور بدوں سے فی ذاتہ نفرت نہیں کرتا۔جب تک وہ بدی ان کے اندر ہے ایک قسم کی نفرت اس وجود سے بھی رہتی ہے لیکن یہ ایک قسم کی نفرت ہے جس کا ذاتی تعلق اس وجود سے نہیں ہے۔بلکہ اس بدی سے ہے جس کو اس کا وجود سمیٹے ہوئے ہے۔وہ گندہ برتن جب تک اس میں گند ہے قابل نفرت رہے گا۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ برتن سے پیار ہے اور گند سے پیار نہیں ہے لیکن ان معنوں میں کہہ رہا ہوں کی فی ذاتہ اس برتن سے آپ کو نفرت نہیں ہے اگر اس کی گندگی صاف ہو جائے ، اگر وہ چمک جائے ، وہ پاکیزہ ہو جائے تو کبھی بھی آپ اس سے نفرت نہیں کریں گے۔تو اس برتن کی محبت کا تقاضا ہے کہ اس کو گندگی سے پاک کریں۔ان معنوں میں آپ برتن سے محبت کرنے والے ہیں اور گندگی سے نفرت کرنے والے ہیں۔پس اس نیت کے ساتھ اگر جماعت اقدام کرتی ہے تو کئی ذرائع اس کے سامنے آسکتے ہیں نظر رکھ کے خاموشی کے ساتھ پتا کرنا پڑے گا کہ اس انسان پر کس کس کا اچھا اثر ہے اس کو استعمال کیا جائے۔بار بار نصیحت کے لئے لوگوں کو بھجوایا جائے منظم کر کے لیکن مخفی طریق پر یہ وعدہ لے کر کہ وہ آگے وہ بات عام نہیں کریں گے اور اخلاقی دباؤ بڑھایا جائے پہلے۔جب اخلاقی دباؤ ایک مقام تک پہنچ جائے اور اس کے باوجود اس شخص کے اندر تبدیلی واقع نہ ہوتو پھر دوسرا قدم وہ ہے جو میں نے بیان کیا ہے کہ اس کے متعلق پھر لا ز ما حتی المقدور اخفا کے ساتھ مگر یہ اخفا پھر رہ نہیں سکتا زیادہ دیر۔احمد یوں کو ضرور بتانا پڑے گا کہ ان صاحب کے لین دین کے متعلق قطعی شواہد یہ ہیں کہ درست نہیں ہے اس لئے ہم آپ کو یہ نہیں حکما منع کر سکتے کہ آپ ان کو کچھ نہ دیں، آپ ان کی مدد نہ کریں ہرگز نہیں۔یہ انفرادی معاملات ہیں جن میں نظام جماعت کو دخل دینے کا حق نہیں لیکن ہم آپ کو یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ آپ ان سے بچیں اور اگر آپ اس کے باوجود ان سے لین دین کرتے ہیں تو اس احسان کے فیصلے کے ساتھ کریں کہ پھر جو کچھ آپ کا روپیہ ضائع ہو گا اس پہ آپ شکایت نہیں کریں گے۔تعلقات کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔بعض لوگ اس نیت سے قرض دیتے ہیں کہ ٹھیک ہے ایک