خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 706
خطبات طاہر جلدے 706 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء روحانی لحاظ سے یہی مضمون ہے جو تجدید دین کا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر روشن فرمایا گیا اور اس مضمون کے پیش نظر آپ سے تجدید دین کا وعدہ فرمایا گیا۔جب تک خلافت جاری ہے میرا یہ ایمان ہے کہ جو خلیفہ بھی اس اہم موقع پر ہوگا یعنی دوصدیوں کے سنگم پر اللہ تعالیٰ اسی سے تجدید دین کا کام لے گا۔مجدد کہنا ضروری نہیں نہ خلیفہ کو مجدد کہنے سے خلیفہ کی شان بڑھتی ہے۔تجدید ایک خدمت ہے اور ہر خلیفہ اسی خدمت پر مامور رہتا ہے لیکن زمانے کے اثرات کے نتیجہ میں بعض اہم مواقع پر یہ خدمت ایک خاص رنگ اختیار کر جاتی ہے اور بعض اہم اقدامات کرنے پڑتے ہیں جن کے نتیجہ میں وہ کمزوریاں جو رفتہ رفتہ پیدا ہوتے ہوتے بعض دفعہ نظر سے اوجھل ہو جاتی ہیں، دب جاتی ہیں ، بعض نئے بدر جحان پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں ان پر نظر رکھتے ہوئے اس کو بعض اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔اس لئے اس ذمہ داری کو جہاں تک خدا تعالیٰ مجھے تو فیق عطا فرماتا ہے میں ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اسی سلسلہ میں یہ میں نے دوبارہ فصیحتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔جو بدیاں آج کل معاشرے میں پھیل رہی ہیں وہی ہیں جو احمد یوں میں بھی راہ پاتی ہیں۔بدیاں اس کے علاوہ احمدیوں سے تو نہیں پھوٹتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کی اتنی اصلاح بنیادی طور پر ہو چکی ہے کہ وہ نئی بدیوں کے ایجاد کرنے والے نہیں لیکن جو دنیا بدیاں ایجاد کرتی ہے۔جو برائیاں معاشرے میں اور ماحول میں پھیلتی ہیں یہ کہنا کہ احمدی اس سے متاثر نہیں ہو سکتے یہ بالکل غلط بات ہے۔بعض دفعہ کشتی میں سوراخ بھی ہو جایا کرتے ہیں۔بعض دفعہ لہریں اتنا اچھلتی ہیں طوفان کی کہ باہر سے کشتی کے اندر پانی داخل ہونا شروع ہوتا ہے اس لئے سب ملاحوں نے ساتھ کچھ ایسے برتن رکھے ہوتے ہیں جن سے وہ بار بار پانی نکالتے رہتے ہیں اور آج کل کی جدید کشتیاں بھی اس سے مستی نہیں ہیں اگر وہ اس ذمہ داری سے غافل ہو جائیں تو جدید سے جدید محفوظ سے محفوظ کشتی بھی غرق ہو سکتی ہے۔اس لئے بیرونی بدیوں کا کناروں سے اچھل کر جماعت میں داخل ہونا ایک نظام قدرت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔دوسری طرف اس کے دفاع کی ذمہ داری یعنی بدیوں کے خلاف دفاع کی جو ذمہ داری جماعت پر عائد ہوتی ہے اس سے کسی پہلو سے بھی آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں اور یہ ایک جاری سلسلہ ہے زندگی اور موت کی جدوجہد کا جسے خوب اچھی طرح سمجھ کر ہماری جماعت کو زندگی کی حفاظت کے تمام اقدامات کرنے پڑیں گے۔