خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 707

خطبات طاہر جلدے 707 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء جو چند برائیاں خصوصیت کے ساتھ میرے پیش نظر ہیں جن کے خلاف جماعت کو بار بار توجہ دلانے کی ضرورت ہے اور بار بار نظام جماعت کو ان کے متعلق بیدار مغزی کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ان میں ایک مالی بے راہ روی ہے۔بد دیانتی اتنی بڑھ گئی ہے دنیا میں کہ جو دنیا کی انتہائی ترقی یافتہ قومیں ہیں وہ بھی دن بدن بد دیانت سے بددیانت تر ہوتی چلی جارہی ہیں۔پہلے یہ تصور تھا کہ بددیانتی غریب ملکوں کی بیماری ہے۔بھوکا آدمی کیا کرے گا اگر وہ چوری نہیں کرے گا تو کیسے زندہ رہے گا اور جس کی ادنیٰ ضرورتیں بھی پوری نہیں ہوتیں اگر وہ معاشرے میں اعلیٰ معیار کی زندگی کو دیکھتے ہیں اور سکھ والے لوگوں کو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم زندگی کی ادنی ضروتوں سے بھی محروم ہیں ہم کیوں نہ جس طرح بھی بس چلے ان کی دولت میں حصہ دار ہوں۔یہ ایک Justification یعنی وجہ جواز پیش کی جاتی ہے غریب ملکوں کی بدیوں کی۔امر واقعہ یہ ہے کہ بدیوں کی کوئی بھی وجہ جواز نہیں ہے۔اگر کوئی وجہ جواز بدیوں کی ہو تو ایسی بدیاں امیر ملکوں میں نہیں ہونی چاہئیں لیکن یہ جو تنا سب ہے Have اور Have Not کا جن کے پاس ہے اور جن کے پاس نہیں ہے ان لوگوں کا تناسب یہ جہاں جہاں بھی سوسائٹی میں موجود ہے یہ ردعمل دکھاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں لوٹ کھسوٹ ، دوسرے کی دولت پر نظر رکھنا اور ان عیش و عشرت کے سامانوں کے حصول کی کوشش کرنا جو سوسائٹی کے ایک طبقہ کو حاصل ہیں اور ایک کو نہیں ہے یہ ایک طبعی امر ہے۔اس لئے جہاں تک بھی اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں اس کی بھی ایک وجہ جواز موجود ہے۔تو کیا پھر اشترا کی دنیا میں یہ بدیاں نہیں ہیں، کیا وہاں یہ رجحان نہیں بڑھ رہا جہاں سب کو ایک ہی اصول کے مطابق دولت کی تقسیم کی جاتی ہے۔جہاں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کوئی ایک دوسرے سے اتنا اچھا نہ ہو کہ اس کے نتیجہ میں دلوں میں حرص پیدا ہو۔کیا وہاں ایسی بدیاں نہیں ؟ میں چونکہ قرآن کریم کی تعلیم سے یہ سمجھتا ہوں کہ دولت کی برابر تقسیم ہر گز بدیوں کو روکنے کا کوئی حل نہیں ہے۔اس لئے اس مضمون میں مجھے ہمیشہ دلچسپی رہی۔چنانچہ بعض دفعہ جب بعض چینی دانشور یا مختلف سیاح مجھ سے ملتے رہے تو ان سے میں نے بار بار یہ سوال کیا کہ روس میں تو شاید دولت کی برابر تقسیم اس طرح موجود نہیں رہی لیکن ماؤزے تنگ کے زمانے کی بات میں کر رہا ہوں اس وقت چین میں واقعہ بڑے