خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 705
خطبات طاہر جلدے 705 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء خدا کی تقدیر اسی طرح سلوک کیا کرتی ہے۔بعض پردہ پوشیاں بعض نیک لوگوں کی برکتوں کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ان برکتوں سے لوگ حصہ پاتے ہیں اس لئے ان کے برائیوں سے بھی درگز رفرمائی جاتی ہے لیکن پھر ایسے زمانے آتے ہیں جب کے وہ پردے اٹھا لیے جاتے ہیں۔اس لئے اس مضمون کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر کے اپنے حالات کا جائزہ لیں۔میں بار بار جماعت کو متوجہ کرتا رہا ہوں اور اب بھی کر رہا ہوں کے ہم جس نئی صدی میں داخل ہونے والے ہیں اس صدی میں داخل ہونے سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو صاف اور ستھرا کرنا چاہئے۔اگلی صدی کے لئے اس رنگ میں تیاری کرنی چاہئے کہ آئندہ ایک سوسال جو کچھ بھی دنیا میں ہو گا بدی اور نیکی کی جنگ میں جو کچھ بھی رونما ہو گا اس کا فیصلہ کرنے والے ایک پہلو سے ہم ہیں۔ہم نے آئندہ صدی میں کچھ بچے بھیجنے ہیں ، کچھ نسلیں بھیجنی ہیں۔اگر ہم نے ان کی تربیت اچھی کر دی ، ان کی حفاظت کے سامان کئے ، ان کو خدا تعالیٰ کی شریعت کی کشتی میں سوار کیا اور صاف اور ستھرا کر کے اور سجا کے اگلی صدی میں بھیجا تو ان کا فیض اور ان کی برکتیں مدتوں تک جاری رہیں گی۔ایک صدی کا عرصہ ایک بہت لمبا عرصہ ہوا کرتا ہے۔بعض پہلوؤں سے کچھ بھی نہیں آنا فانا گزر جاتا ہے مگر بعض پہلوؤں سے اس کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔قوموں کا عروج ایک صدی کے اندر قائم رہتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور محسوس نہیں ہوتا کہ قومیں تنزل اختیار کر گئی ہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ایک سوسال کا عرصہ اس پہلو سے اتنا لمبا ہے کہ قوموں کے عروج کے بعد ان کے زوال کے آثار ایک سوسال کے اندر لا ز ما شروع ہو جایا کرتے ہیں۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری عطا فرمائی کہ ہر صدی کے سر پر خدا ایسے لوگوں کو مبعوث فرمائے گا جو تیری امت میں دین کی تجدید کریں گے اور احیاء کریں گے ( ابو داؤد کتاب الملاحم حدیث نمبر : ۳۷۴۰)۔یہ ایک ایسا نظام ہے جس کا جاری ہونا لازمی تھا۔جس طرح لمبی نہروں میں آپ دیکھتے ہیں کہ اس خطرے سے کہ رفتہ رفتہ پانی کی رفتار سست نہ ہو جائے اور وہ اس زرخیز مٹی کو جسے اٹھائے لئے پھرتا ہے اسے گرا کر خود اپنی راہ کو تنگ نہ کر دے ٹھوکریں پیدا کی جاتی ہیں اور مصنوعی آبشاریں بنائی جاتی ہیں۔وہ آبشاریں اس رفتار کو ایک دفعہ پھر تیز کر دیتی ہیں اور اس طرح پانی کی زندگی کا عمل جاتی رہتا ہے۔