خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 702
خطبات طاہر جلدے 702 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو روحانی معنوں میں نوح کا لقب عطا فرمایا گیا وہ حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ کی نسبت سے سمجھا جا سکتا ہے۔اگر چہ حضرت نوح کے طوفان کے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ساری دنیا غرق ہو گئی تھی مگر جہاں تک انسانی تحقیق کا تعلق ہے نہ یہ بات قرین قیاس ہے نہ تاریخی اور سائنسی شواہد سے ثابت ہے، نہ عقل اس کو تسلیم کرسکتی ہے کہ ایک بارش کے نتیجہ میں تمام دنیا کے بڑے بڑے خطے غرق ہو چکے ہوں اور کسی جگہ کوئی پناہ گاہ باقی نہ رہے۔زمین کا اور نچ پیچ ، اس کا طول عرض اس کے نقشے کی کیفیت یہ ساری چیزیں اس تصور کو رد کرتی ہیں لیکن اس کے با وجود یہ قطعی طور پر درست ہے کہ وہ دنیا جس دنیا کی طرف حضرت نوح مامور فرمائے گئے تھے اور ہو سکتا ہے اس وقت انسانی آبادی وہیں تک سمٹی ہو اس پہلو کو ہرگز عقلاً یا سائنس کے نقطہ نگاہ سے رد نہیں کیا جا سکتا کہ انسانی معاشرے کی ترقی یافتہ صورت انہی علاقوں میں بستی ہو جن علاقوں میں حضرت نوح خدا کا پیغام لے کر آئے اور چونکہ وہ انسانوں کی ترقی یافتہ صورت تھی اور وہ ایک ایسی تہذیب تھی جو تمام دنیا کے انسانوں کی نمائندگی کر رہی تھی اس لئے ان کی غرقابی کو سب دنیا کی غرقابی قرار دیا گیا۔وہ امتوں کے بیچ تھے وہ ایسے لوگ تھے جن سے آئندہ تہذیبی امتیں قائم ہوئی تھیں۔ان معنوں میں ان کو خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کے نمائندے کے طور پر جب روفر مایا تو نقشہ ایسا کھینچا گویا سب دنیا غرق ہوگئی لیکن جہاں تک قرآن کریم کی آیات کا تعلق ہے واضح طور پر کسی جگہ بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ تمام دنیا غرق ہوگئی۔بائبل کی کہانیوں میں تو آپ کو یہ ملے گا۔دوسرے قصوں میں یہ بات مذکور ہوگی لیکن قرآن کریم میں صاف لفظوں میں کسی ایک جگہ بھی ساری دنیا کی غرقابی کا ذکر نہیں فرمایا ہاں حضرت نوح کے مخاطبین کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت نوح سے جو مذاق کرتے تھے تمسخر کرتے تھے اور کشتی بنانے کے وقت پاس سے گزرتے ہوئے کئی قسم کے طعن وتشنیع سے کام لیتے تھے۔وہ وہی لوگ تھے جن سے حضرت نوح مخاطب تھے۔ہاں دوسرے پہلو کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے جو میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ان کو تمام دنیا کا نمائندہ ضرور سمجھا گیا اور تمام امتوں کا خلاصہ قرار دیا گیا۔چنانچہ