خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 703 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 703

خطبات طاہر جلدے 703 قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم نے نوح سے مخاطب ہو کر یہ فرمایا کہ: خطبه جمعه ۲۱ را کتوبر ۱۹۸۸ء قِيْلَ لِنُوحُ اهْبِطُ بِسَلِمٍ مِنَّا وَ بَرَكَةٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ (هود: ۴۹) ممَّنْ مَّعَكَ وَ أَمَرَّ سَنُمَتْعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ کہ نوح سے یہ فرمایا گیا الهبط بسلم قِنا کہ تو اس سفر پر روانہ ہو جوکشتی کا سفر ہے ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ وَبَرَكتٍ عَلَيْت اور اس حالت میں کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں تیرے ساتھ ہیں۔وَعَلَى أُمَمٍ مِمَّنْ مَّعَ اور ان امتوں کے ساتھ ہیں جو تیرے ساتھ ہمسفر ہیں۔بعض علماء یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں امتوں سے مراد مختلف قسم کے جانور تھے جو اپنی اپنی قوم کے نمائندہ تھے۔حالانکہ قرآن کریم جانوروں کے متعلق یہ لفظ استعمال نہیں فرما سکتا کہ وہ برکتیں ، وہ رحمتیں جو نبیوں کو عطا ہورہی ہیں وہ ان کے ساتھی جانوروں کو بھی عطا ہوں گی۔ایک محض لغو تصور ہے جس کو نعوذ باللہ قرآن کریم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔پھر اس آیت کا اگلا ٹکڑا اس بات کو خوب کھول رہا ہے کہ امتوں سے کون مراد ہے۔فرمایا وَ أُمَوِّ سَنُمَتعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيم اور ایسی امتیں بھی ہیں جو کشتی میں سوار ہیں لیکن ہم ان کو فائدے سے محروم تو نہیں رکھیں گے ہاں کچھ فائدے کے بعد ان کی بعد میں پیدا ہونے والی بد اعمالیوں کے نتیجہ میں ان کو دردناک عذاب میں مبتلا کریں گے۔تو جانورں کے متعلق تو خدا تعالیٰ کی یہ تقدیر نہیں ہے کہ کچھ فائدہ پہنچانے کے بعد جانوروں کی نسلوں کو عذاب میں مبتلا کیا جائے آخر کیوں کیا جائے وہ تو مکلف نہیں ہیں شریعت کے۔اس لئے اس آیت کے اس آخری حصے نے اس مضمون کو خوب کھول دیا کہ حضرت نوح کے ساتھ سوار لوگ تمام دنیا کے امتوں کے نمائندہ تھے اور ان کے اندر وہ بیج موجود تھا جس سے امتیں پیدا ہوتی ہیں۔اس پہلو سے وہ دنیا غرق کی گئی۔یعنی تمام دنیا گویا ڈوب گئی جب خدا تعالیٰ نے اس بیج کو محفوظ کر کے باقی سب لوگوں کو جوان کو مٹانے کے درپے تھے ان کو ہلاک کر دیا۔اس نقطہ نگاہ کو سمجھنا ایک احمدی کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے حوالے سے کشتی نوح کی سمجھ آئے گی اور یہ کشی نوح واقعۂ تمام دنیا کے انسانوں کو بچانے کے لئے بنائی گئی ہے۔حضرت نوح کے زمانے کے چند لوگوں کو بچانے کے