خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 688
خطبات طاہر جلدے 688 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء سمجھتا ہوں اور خصوصیت کے ساتھ پاکستان کی تمام جماعتوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ ان کو اپنے اصلاحی پروگرام میں پیش نظر رکھیں اور جیسا کہ میں بار بار یہ ذکر کر چکا ہوں کہ یہ وقت ہے کہ ان بدیوں کے خلاف جہاد کیا جائے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی میں اس مضمون پر خطبے دیتا ہوں انفرادی طور پر مجھے خطوط ملتے ہیں۔کچھ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ ذکر کرتے ہیں کہ خدا کے فضل سے ہمیں اس سے فائدہ پہنچا لیکن بعض دفعہ باوجود اس کے کہ جماعتوں کو خاص طور پر متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ با قاعده مستقل پروگرام کے مطابق ان بدیوں کے خلاف جہاد کریں۔جماعتی رپورٹوں میں کچھ دیر کے بعد وہ ذکر آن ختم ہو جاتا ہے۔یعنی نظام جماعت کا جہاں تک تعلق ہے وہ ہر ملک میں اور ہر شہر میں یکساں اطاعت نہیں کرتا ، یکساں تعمیل نہیں کرتا اور رفتہ رفتہ پھر یہ بات آئی گئی ہو جاتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاں! ماضی میں ایک بات کہی گئی تھی اب کہاں تک اس کو لے کر کوئی آگے بڑھے۔یہ وہ بدیاں ہیں جن کا میں ذکر نے لگا ہوں جو مستقبل سے تعلق رکھ رہی ہیں اور دن بدن بڑھ رہی ہیں۔ان کے خلاف جہاد ماضی کا قصہ بن ہی نہیں سکتا جب تک ان کی بیخ کنی نہ ہو جائے۔پس بڑی جہالت ہو گی یہ سوچ لینا کہ جن دنوں میں خطبہ آیا تھا ان دنوں میں ہم نے ان بدیوں کے خلاف جہاد شروع کیا تھا اور تعمیل ہو گئی ہے۔تعمیل کیسے ہو سکتی ہے اگر بدیاں باقی ہیں۔جب تک مرض باقی ہے دوا کی ضرورت پڑتی رہے گی۔اس لئے میں جماعتوں کو متوجہ کرتا ہوں یعنی جماعتوں کی انتظامیہ کو، اپنے پروگرام میں ان کو با قاعدہ داخل کریں ایک ایسا منصوبہ بنائیں جس کے نتیجے میں پھر وہ ان باتوں کو بھول نہ سکیں اور مستقلاً ان میں سے کچھ لوگ نگران رہیں اور اس منصوبے کے نتیجے میں ایسا جائزہ لینے والا انتظام بھی ہو کہ جو اس کی تعمیل کی کارروائی پر نظر رکھتا ر ہے۔سب سے پہلی بات جو قابل توجہ ہے وہ نیتوں کا فساد ہے۔دنیا میں جتنی بدیاں پھیلتی ہیں وہ نیتوں کے فساد سے پھیلا کرتی ہیں۔آنحضرت مہ نے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا۔ایک توانما الاعمال بالنیات (بخاری کتاب الوحی حدیث نمبر : 1) کی مشہور حدیث آپ کے پیش نظر رہنی چاہئے لیکن ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا الاوان فی الجسد مضغةاذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله الاوهى القلب ( بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر :۵۰) کے خبر دار انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ لوتھڑا صحیح رہے تو سارا جسم صحیح رہتا ہے اور اگر وہ لوتھڑا بگڑ