خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 689
خطبات طاہر جلدے 689 خطبه جمعه ۴ ۱ را کتوبر ۱۹۸۸ء جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔الا وھی القلب خبر دار ! وہ لوتھڑ ادل ہے۔تو مراد یہ ہے دنیا میں جب بدیاں راہ پاتی ہیں ان کا آغاز دلوں میں مخفی طور پر شروع ہوتا ہے یا آغاز جڑ پکڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ وہ بدی ایک معین خیال پھر ایک عزم کی شکل اختیار کر لیتی ہے، پھر وہ عملی جامہ پہنتی ہے، پھر وہ انفرادی بدی رفتہ رفتہ قومی بدی بنے لگتی ہے۔اس لئے سب سے پہلے نیتوں کی اصلاح ضروری ہے اور میں نے جہاں تک جائزہ لیا ہے بدقسمتی سے ہماری قوم میں ہر جگہ آغاز ہی سے بدنیتی داخل ہو چکی ہے۔بچے جب تعلیم پاتے ہیں وہ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ تعلیم پانے کے بعد ہم یہ یہ بڑے بڑے عہدے حاصل کر کے اسی طرح امیر بنیں گے، اسی طرح بد دیانتیاں کر کے قومی اموال کو غصب کریں گے جس طرح ہمیں وہ لوگ دکھائی دے رہے ہیں جو بہت اچھے حال میں ہیں ، جن کا رہن سہن ہمیں متاثر کرتا ہے اور ان کا طریق یہی ہے کوئی انجینئر ہے، کوئی ڈپٹی کمشنر ہے، کوئی ایس پی ہے، کوئی دنیا کا اور عہدہ دار ہے۔ہر ایک نے اپنی ایک شان بنائی ہوئی ہے۔وہ شان نئی بڑی ہونے والی نسل کو دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔اس پر وہ اثر انداز ہو رہی ہوتی ہے اور یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہوتی کہ کس طرح یہ شان بنی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ سارے لوگ اگر دیانتدار بن جائیں، دیانتدار نہ زندگی بسر کریں تو بجائے اس کے کہ یہ قابل رشک دکھائی دیں یہ قابل رحم دکھائی دینے لگیں اور لوگ خوف کھائیں حکومت کی نوکری سے کہ کیسا عذاب ہے، دن رات کی مصیبت، دن رات کی محنت خواہ انجینئر ہو، خواہ ایس پی ہو خواہ ڈی سی ہو، بڑی بھاری ذمہ داریاں ہیں اور جو تنخواہ ملتی ہے وہ اتنی کہ بمشکل سفید پوشی کا بھرم رکھا جا سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔تو جو کچھ ان کو دکھائی دیتا ہے وہ شان دکھائی دیتی ہے جو جھوٹ پر قائم ہے اور ہر قوم کا بچہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے، اس سے کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہوتی کہ اس شان میں جھوٹ اور فساد شامل ہیں۔چنانچہ اسی وقت سے اس کی نیت میں یہ بات داخل ہو جاتی ہے۔ایک انسان تاجر بننے کی سوچ رہا ہے اس نے تاجروں کی شان وشوکت دیکھی ہے، دن بدن تیزی کے ساتھ روپیہ بڑھتے ہوئے دیکھا ہے، وہ جانتا ہے کہ دیانتداری کے ساتھ اس تیزی سے روپیہ نہیں بڑھا کرتا ، چنانچہ جب وہ تاجر بننے کی سوچتا ہے تو اس کی نیت میں وہ فساد داخل ہو چکا ہوتا ہے جو بظاہر کامیاب تاجروں کی نیت میں داخل تھا اور جس نے ان کو آنا فانا نا جائز ذریعے سے کمائی