خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 671 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 671

خطبات طاہر جلدے 671 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء کرے گا کہ یہ ہمارے ہاتھ سے نکل نہیں سکے بالکل غیر معقول بات ہے اور تاریخی طور پر قطع غلط ثابت ہوتی ہے۔ابوجہل نے حضرت اقدس محمد مصطفی میلے کو کتنے دکھ دیئے اور آنا فانا چند ثانیے میں ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوا۔اسی طرح اور بہت سے ایسے تاریخی واقعات آپ کو ملیں گے جہاں انبیاء کو دیکھ دینے والوں نے ایک لمبا زمانہ دکھ دینے کا پایا لیکن اس دنیا سے وہ بغیر کوئی خاص دکھ دیکھے رخصت ہو گئے۔پس اس لئے اس وقت کے نادان بھی میں سمجھتا ہوں فرعون کے زمانہ کے نادان بھی شاید یہ سوچتے ہوں کہ یہ کیا ہوا اتنا لمبا عرصہ تکلیفیں دی گئیں بلکہ کئی نسلوں سے حضرت موسیٰ کی قوم کو تکلیفیں دی جارہی تھیں اور چند لمحے کے غرقابی کے سوا اسکو اور کوئی دکھ نہیں پہنچا تو یہ نا مجھی کی باتیں ہیں خدا کی تقدیر کے معاملوں کے فہم سے عاری لوگ ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔دوسرا پہلو دونوں کے درمیان یہ مشترک ہے کہ فرعون کو بھی اپنی موت کے بعد بڑی شان وشوکت نصیب ہوئی اور آج تک اس کی شان وشوکت کے آثار دنیا میں باقی ہیں اور لیکھرام کو بھی اپنی ہلاکت کے بعد بہت شان و شوکت نصیب ہوئی لیکن جو بنیادی فرق ایک اور ہے وہ یہ ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ رکھی گئی کیونکہ اس کو تو بہ کا وقت ملا یعنی ایک رنگ میں تو بہ کی توفیق ملی۔لیکن لیکھرام کی لاش محفوظ نہیں رکھی گئی۔اس لئے اسے فرعون کے مشابہ قرار دینے کی بجائے سامری کے گوسالہ کے مشابہ قرار دیا گیا کیونکہ سامری کے بچھڑے کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں خدا تعالیٰ نے اس کا ریزہ ریزہ کروایا اور آگ میں جلا دیا گیا۔پس یہ انجام چونکہ موسیٰ کے فرعون کے انجام سے مختلف تھا اس لئے سامری کے بچھڑے کی تشریح سامنے رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لیکھر ام کے انجام سے آگاہ فرما دیا گیا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہندوو یسے ہی اپنی لاشیں جلاتے ہیں اور چونکہ وہ تلوار سے کاٹا گیا اس لئے اس کے بعد وہ جب جلا دیا گیا تو اس کی خاک ریزہ ریزہ ہوگئی۔اس کی راکھ ریزہ ریزہ ہو کر دریا میں بہادی گئی اور بعینہ یہی سلوک سامری کے بچھڑے سے ہوا تھا۔جہاں تک لیکھرام کی عزت کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی لوگوں نے اس قسم کی باتیں کی ہیں اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ وہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہنچی بھی ہیں۔لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اتنا بڑا نشان ظاہر ہوا ہے اس لئے اس کی موت کے ساتھ