خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 670
خطبات طاہر جلدے 670 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء کے لئے فرق پڑ جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے کہ اسی دنیا میں عذاب دیا جائے بلکہ جہاں تک میں نے غور کیا ہے بسا اوقات بعض نیکوں کو لمبا عرصہ اس دنیا میں دکھ اٹھانا پڑتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ایک آیت سے پتا چلتا ہے کہ ہر شخص کے لئے جہنم کا نمونہ دیکھنا ضروری ہے۔وہ جو خدا کے منکر یا گناہوں میں بہت بڑھ جاتے ہیں ان کے لئے دوسری دنیا کی جہنم دیکھنی ضروری ہوا کرتی ہے۔اور جو خدا کے پاک بندے ہیں ان کو خدا جہنم میں تو نہیں ڈالتا بلکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس کی حسیں بھی نہیں سن سکیں گے۔یعنی آخرت میں اس کی دور کی آواز جو ہلکی سی ہے وہ بھی وہ نہیں سن پائیں گے۔تو ان دونوں آیتوں کا انطباق کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم دوسرے معنوں میں لفظی طور پر اطلاق نہیں پاتی بلکہ معنوی طور پر تکلیف کے معنوں میں اطلاق پاتی ہے اور خدا کے نیک بندوں کو بعض دفعہ یہاں لمبی تکلیفیں ملتی ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں بعض بیوقوف اور نادان کہ اتنے نیک ہو کر اتنی تکلیفیں اٹھا ئیں اور پھر لمبا سکھ دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے تو یہ کیا تقدیر ہے خدا کی۔یہ اس خدا کی تقدیر ہے جو دونوں عالم کا مالک ہے۔جو یہاں کا بھی مالک ہے اور وہاں کا بھی مالک ہے۔اس لئے اس جگہ سے گزر کر دوسری جگہ چلے جانا خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی ایسا واقعہ نہیں جس میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہو۔یا ایسی تبدیلی جس سے اس کے قبضہ قدرت پر فرق پڑتا ہو۔پس اس لحاظ سے خدا تعالی بعض اوقات اپنے بندوں کو اس دنیا میں تکلیف یا معمولی تکلیف کہنا چاہئے پہنچنے دیتا ہے تا کہ ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور آخرت میں پھر ان سے کوئی باز پرس نہ ہو۔یہ مضمون میں اپنی طرف سے بیان نہیں کر رہا۔حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ نے بھی سمجھایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس دنیا میں مومن کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو اس کے لئے بھی جز ا مقدر ہے اور یہاں کی تکلیفیں مومن کے لئے اس کی خطاؤں کے جھڑنے کا موجب بن جاتی ہیں ( بخاری کتاب المرضی حدیث نمبر ۵۲۱۶) یعنی جہاں تک گناہ اور سزا کا معاملہ ہے مومن کی تکلیفیں اس کے گناہ جھاڑنے اور سزائیں دور کرنے کا موجب بن جاتی ہیں۔پس اس وسیع مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ توقع رکھنی کہ خدا تعالیٰ ہر نبی کے ہر دشمن کو لمبا عذاب دے کر گویا اس کے نتیجہ میں یہ ثابت