خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 672 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 672

خطبات طاہر جلدے 672 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء اس کی ساری عزت اس رنگ میں خاک میں مل جائے گی کہ اس کی قوم اس کو چھوڑ دے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام میں جو گوسالہ بچھڑے کا ذکر فر مایا گیا اس کو تو خدا کے سوا معبود بنایا گیا تھا، اس کی تو پوجا کی گئی تھی۔اس لئے یہ تو اسی رنگ میں پورا ہوسکتا تھا کہ اس کو بھی بہت بڑا مرتبہ دیا جاتا اور بہت بڑا مقام دیا جاتا نہ کہ اس کو ذلیل ورسوا کر کے پھینک دیا جا تا۔چنانچہ حضرت موسیٰ کی قوم میں اس واقعہ کے بعد بھی سامری کے شرک کے لگائے ہوئے پودے نے مختلف وقتوں نے اپنی شاخیں پھیلائی ہیں اور لمبے عرصے تک سامریت کا اثر حضرت موسیٰ کی قوم میں جاری و باقی رہا اور حضرت موسیٰ کے لئے دکھ اور تکلیف کا موجب بنتا رہا۔پس اس پہلو سے جب ہم لیکھر ام کے انجام کو دیکھتے ہیں تو اس کے متعلق جو بھی الفاظ اختیار کئے گئے ہیں جو بھی الفاظ بیان فرمائے گئی ہیں بعینہ صورتحال پر صادق آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ کام خدا تعالیٰ نے کیا ہے اور ہندوؤں کے دلوں میں اس کی عظمت ڈال دی تا ایک نامی آدمی کی نسبت پیشگوئی متصور ہو کر اس کا اثر بڑھ جائے اور روزگار سے مٹ نہ سکے۔اب جب تک عزت کے ساتھ لیکھرام کو یاد کیا جائے گا تب تک یہ پیشگوئی بھی ہندوؤں کو یاد رہے گی۔غرض لیکھرام کو عزت کے ساتھ یاد کرنا پیشگوئی کی قدر و منزلت کو بڑھاتا ہے۔اگر پیشگوئی کسی چوہڑے چمار اور نہایت ذلیل انسان کے لئے پوری ہوتی تو کیا قدر ہوتی میں انسہ پہلے اس خیال سے نمگین تھا کہ پیشگوئی تو پوری ہوئی مگر ایک معمولی شخص کی نسبت جو پشاور میں سات آٹھ روپیہ کا پولیس کے محکمہ میں نوکر تھا۔فرماتے ہیں: اب دیکھیں کے عارف باللہ اور عام انسان کی سوچ میں کتنا زمین آسمان کا فرق ہے۔دو میں اس بات پہ تمکین تھا کہ آدمی ویسے معمولی سے لیکن جب میں نے سنا کہ مرنے کے بعد اس کی بہت عزت کی گئی تو میرا غم خوشی کے ساتھ بدل گیا اور میں نے سمجھا کہ اب لوگ خیال کریں گے کہ ایسے معمولی آدمی پر میری