خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 659
خطبات طاہر جلدے 659 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء سمندر پیچھے ہٹنے کے نتیجے میں کچھ اونچی سطح کے ایسے علاقے نمودار ہو جاتے ہیں دریا کے اندر سے ہی جس پر انسان آسانی سے دریائی علاقے کو پار کر سکتا ہے جب سمندر کی لہریں دوبارہ طغیانی میں آئیں اور اوپر چڑھ جائیں اُس وقت لوگ موجود ہوں وہ غرق بھی ہو سکتے ہیں۔تو معلوم یہ ہوتا ہے اُس وقت یہ واقعہ ہوا ہے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام گزر چکے ہیں جوار بھاٹا تو ہوتا رہتا ہے اور سمندر کی لہریں دوبارہ اپنے اونچا ہونے کے وقت میں وہ اوپر چڑھ آئیں اور فرعون غرق ہوا اور ساتھ ہی وہ ہٹ بھی گئی ہوں گی۔اس لئے ہر گز بعید نہیں کہ اس واقعہ کے ہونے کے بعد ایک شور قیامت بپا ہو گیا ہوگا اور باقی فوج نے فوری طور پر فرعون کی لاش کو محفوظ کر لیا ہو کیونکہ چند گھنٹے کے اندراندراگر غرقاب شدہ لاش کو دریافت کر لیا جائے تو اس پر کسی قسم کے کوئی آثار ایسے ظاہر نہیں ہوتے جس سے آپ کہہ سکیں کہ یہ ڈوب کر مرا ہے۔اور پھر جب تمھی ہو جائے تو پھر انسان کسی لحاظ سے بھی معلوم نہیں کرسکتا۔میں نے خود ایک دفعہ ایک لاش کو ڈوبنے کے قریباً ۲۴ گھنٹے کے بعد نکالا ہے اور ہمارے دریائے چناب کے کنارے پر محلہ دارالیمن میں ایک احمدی نوجوان فوجی تھے جو وہاں ڈوب گئے تھے۔تو جب غوطہ خور تلاش نہیں کر سکے تو میں بھی پھر گیا وہاں تو میں نے دیکھا اندر وہ اس طرح بیٹھے ہوئے تھے جس طرح کوئی زندہ آدمی بیٹھا ہوا ہے۔کوئی بداثر لاش پر کسی قسم کا نہیں تھا نہ کوئی چوٹ کا نشان تھا وہ آدھی اٹھی ہوئی لاش کو لہے سے اوپر نیم متعلق تھی پانی میں۔چنانچہ میں نے بغل میں ہاتھ دے کر ان کو باہر نکالا اس کے بعد بھی ہم نے لاش دیکھی اُس پر کوئی برانشان نہیں تھا۔تو یہ خیال کر لینا مؤرخین کا چونکہ اس جسم کے اوپر کسی سمندری جانور نے حملہ نہیں کیا یا اس قسم کے کوئی بدنشان نہیں ملتے اس لئے یہ واقعہ غلط ہو گیا بالکل بے معنی بات ہے۔قرآن کریم کے اعجازی نشان کو اور بھی زیادہ بڑھا کر اور چمکا کر پیش کرتا ہے واقعہ۔اس کے باوجود کہ امکان تھا اُس کی لاش کے ضائع ہونے کا پھر بھی وہ لاش ضائع نہیں ہوئی۔فرعون مصر کے ساتھ کچھ اور واقعات بھی وابستہ ہیں اور اُس زمانے میں کچھ واقعات ہیں۔تاریخ ان معنوں میں تو اپنے آپ کو بہر حال نہیں دہرایا کرتی کہ لفظ لفظ وہی چکر دوبارہ چل پڑے گویا خدا کی تقدیر میں اور کوئی نقشہ ہی نہیں ہے جو ہر کچھ عرصے کے بعد دہرایا جاتا ہے۔اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مجھے 12 تاریخ کے خطبے سے پہلی رات کو یعنی 11 اور 12 کی درمیانی رات کو یہ