خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 660

خطبات طاہر جلدے 660 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء مضمون کھول کر سمجھا دیا اور میں نے خطبے میں بیان بھی کیا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں ایک انگریزی ترجمے کے متعلق کچھ انگریز بیٹھے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ یہ جو ترجمہ ہے یہ درست نہیں لگتا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک عبارت کا ترجمہ گویا میں نے یا میرے ساتھ مل کر چندلوگوں نے کیا ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انگریزی محاورے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو اس طرح دہراتی ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں۔ہم تو اور معنوں میں لیتے ہیں ہر چیز کو یاد ہرائی جاتی ہے لیکن تم نے جو یہ ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کیا ہے اس میں یہ عبارت بنتی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو اس طرح دہراتی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے عقوبت کے واقعات کو دہراتا ہے۔جن قوموں کو سزا دیا کرتا ہے اُن کو سزا دینے کے واقعات کو دہراتا ہے۔اس پہلو سے مجھے اس میں ایک خوشخبری بھی معلوم ہوئی ہے۔وہ خوشخبری اس لئے کہ مجھے اس الہام کو پڑھتے ہوئے ہمیشہ ایک فکر لاحق ہوا کرتی تھی کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں تو اور بھی بہت سے تکلیف دہ واقعات ہوئے ہیں جو بعض اپنی قوم کی طرف سے اُن کو پہنچے۔قرآن کریم میں اُن کا ذکر ملتا ہے، ایک سے زائد جگہ اُن کا ذکر ملتا ہے۔سب سے بڑا تکلیف دہ واقعہ یہ کہ جب حضرت موسیٰ کے جانے کے بعد قوم نے ایک بچھڑے کو اپنا خدا بنالیا تھا اور وہ جو سونے کا بچھڑا تھا اس سے متاثر ہو گئی تھی اور بھی کئی قسم کے تکلیف دہ واقعات گزرے ہیں جنکو پڑھنے کے بعد دل میں ایک خوف طاری ہوتا تھا۔وہم پیدا ہوئے تھے کہ اگر تاریخ اسی طرح دہرایا کرتی ہے اور زمن موسی سے یہی مراد ہے تو پھر تو خدانخواستہ بعض تکلیف دہ چیزیں بھی دیکھنے میں آئیں گی۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کلیہ ایسا واقعہ کوئی نہ ہو لیکن اس رؤیا کے بعد میں سمجھتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہے۔یہ جو فرمایا گیا ہے زمن موسیٰ کا سازمانہ تجھ پر آنے والا ہے جس کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے یہ واضح طور پر لکھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آئندہ کسی خلیفہ کے زمانے میں یہ واقعات رونما ہوں گے۔اُن میں وہ شرانگیز واقعات شامل نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ جو بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت میں تاریخ دہرانے کا یہ ترجمہ بیان ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی عقوبت کے واقعات کو اپنی پکڑ کے واقعات کو، اُس سلوک کو دہراتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ دشمنی کرنے والوں کے ساتھ وہ کیا کرتا ہے۔تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیں