خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 658
خطبات طاہر جلدے 658 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء اور اسی طرح دنیاوی ساز وسامان ساتھ دفنایا کرتے تھے، اس کے ساتھ بھی دفنائے گئے۔تو اس زمانے کا مؤرخ اس واقعہ کو کبھی بھی شکست کے طور پر تسلیم نہیں کر سکتا۔اس زمانے کا انسان جو پیچھے رہ گیا تھا اُس کی تو آنکھیں چندھیا گئی ہوں گی اس شان و شوکت سے۔سارے مصر میں ماتم منایا گیا اور اُس کی موت کے اوپر وہ دھوم دھام منائی گئی جو فرائین کی موت کے ساتھ تاریخی طور پر روایتی طور پر وابستہ ہوا کرتی تھی۔یہ اعتراض اُن کا کہ وہ ڈوب کر مرا ہی نہ ہو کیونکہ اُس کی لاش پر کوئی ایسے اثرات نہیں ملتے جس سے ثابت ہو کہ اُس کے اوپر کسی قسم کے Violance کے نشان ہیں یعنی مچھلی کے کاٹنے کے اور اس قسم کے۔یہ بات قرآن کریم کے بیان کو جھٹلاتی نہیں بلکہ اُس کی تائید کرتی ہے۔قرآن کریم نے فرمایا نُنَجِيكَ بِبَدَنك خدا نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم تیرے بدن کو نجات دیں گے۔کس مچھلی کی مجال تھی سمندری جانور کی طاقت تھی کہ خدا کے اس فیصلے کے خلاف اُس کی لاش کو کوئی نقصان پہنچا سکتا۔چنانچہ یہ خدا تعالیٰ نے جو واقعہ قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے یہ تو اس کی عظمت کو دوبالا کرنے والی بات ہے۔رہا یہ کہ کیسے ہوا ہوگا یہ سمجھنا تو کوئی مشکل نہیں کیونکہ یہ واقعہ دریائے نیل کا جو سنگم ہے سمندر کے ساتھ اُس پر ظاہر ہوا ہے اور ڈیلٹا کا جو علاقہ کہلاتا ہے اور مصر کے شمال مشرقی حصے میں ہوا ہے۔اس بات کے متعلق مؤرخین اس لئے متفق ہیں کہ پرانی تاریخوں میں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ جس جگہ حضرت موسیٰ نے اور آپ کی قوم نے سمندر کو یا دریا کو پار کیا تھا یہ بحث طلب ہے کہ سمندر تھا پھٹ گیا تھا یا دریا سمندر کے جوڑ پر یہ واقعہ ہوا ہے۔اُس جگہ ایک Reed ملتی ہے جسے Papyrus کہتے ہیں Papyrust Paparuis یہ وہ Reed ہے جس سے کاغذ بنائے جاتے ہیں۔جب ہم یوگنڈا گئے تو وہ بھی دریائے نیل کا دہانہ و ہیں ہے اُس کی نیل کے کنارے کنارے یہ بہت کثرت سے پائی جاتی ہے یہ Reed۔اور Egypt تک مسلسل دریائے نیل کے کناروں پر یہ Reed ملتی ہے۔مؤرخین کہتے ہیں کہ Papyrus وہاں موجود تھی۔یہ تو ثابت شدہ بات ہے اس لئے یہ سمندری پانی نہیں ہو سکتا کیونکہ کھاری پانی میں Papyrus کا پودا نہیں اگتا۔یہ میٹھے پانی کا پودا ہے تو معلوم ہوا کہ ایسی جگہ یہ واقعہ ہوا ہے جہاں دریائی علاقہ تھا اور وہاں سے معلوم ہوتا ہے سمندر وہاں سے پیچھے ہٹ گیا اور خشک دور کا یہ واقعہ تھا۔اس خشک دور میں چونکہ