خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 650 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 650

خطبات طاہر جلدے 650 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء چاہئے کیونکہ اس سے ایمان کو تقویت ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے جلال اور جمال اور جبروت اور اُس کی غیر معمولی نصرت اپنے پیاروں کے لئے ذہن نشین ہوتی ہے۔اس لئے ایسے نشانات کا گاہے گاہے تذکرہ الہی جماعتوں کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔وہ نشان جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ تین زمانوں پر پھیلا ہوا ہے وہ حضرت موسیٰ اور فرعون کے مقابلے کا نشان ہے۔اگر چہ اس واقعہ کو آج سے تقریباً ۳۳۰۰ سال گزر چکے ہیں یعنی حضرت موسیٰ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ۳۰۰ اسال یا ۳۰۰ اسے کچھ پہلے پیدا ہوئے یار مسیس دوم کے زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور فرعون کا واقعہ رمسیس دوم کے بیٹے منفتاح کے زمانے میں ہوا تو اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقریباً 19 سو سال پہلے یا اس سے کچھ کم پہلے یہ واقعہ گزرا ہے۔اس پر آج ۱۴۰۰ سال ہوئے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے تک ۳۰۰ سال اوپر گزر چکے تھے۔تو ۳۲۰۰ سال یہ بن گئے اور ایک سو سال کا عرصہ اوپر گزرا ہے تو یہ ۳۳۰۰ سال جمع کچھ سال کل عرصہ ہے جس میں اس نشان نے تین دفعہ اپنا جلوہ دکھایا ہے اور حیرت انگیز طور پر ان تین مختلف زمانے کی تاریخوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔قرآن کریم میں حضرت موسیٰ کے اس نشان کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ جب فرعون اپنے لشکریوں کے ساتھ غرق ہونے لگا تو اُس نے اللہ تعالیٰ سے یہ استدعا کی کہ اب میں موسیٰ اور ہارون اور اُن کے خدا پر ایمان لاتا ہوں اس لئے تو مجھے بچالے تو اللہ تعالیٰ نے جوا با فرمایا آنٹن (یونس:۹۲) اب یہ کوئی وقت ہے بچنے کا اور اس جواب میں بہت ہی گہری حکمت ہے۔اس کے ساتھ ہی فرمایا نُنَجِّيكَ بِبَدَنِك (یونس :۹۳) ہاں ہم تیرے بدن کو نجات دیں گے۔ایک طرف یہ کہنا کہ یہ کون سا وقت ہے بچانے کا اور پھر اچانک یہ کہہ دینا کہ ہم تیرے بدن کو نجات دیں گے۔اس میں بہت ہی گہری حکمت ہے۔مراد یہ ہے کہ جب تیری روح کی نجات کا وقت تھا جب تیری روح کو خطرہ تھا اُس وقت تو تو ایمان نہیں لایا اب بدن کو خطرہ پیدا ہوا ہے تو تو ایمان لاتا ہے۔اس لئے اسی مناسبت سے ہم تیری ساری بات رد نہیں کرتے۔روح کی نجات کا تو وقت گزر چکا ہے۔ہاں تیرے بدن کو نجات دیں گے اور محض ایک طعن کے رنگ میں نہیں بلکہ اس غرض سے کہ یہ آئندہ نسلوں کے لئے ایک عبرت کا نشان بن جائے۔یہ ہے وہ مکمل جواب دراصل جو چھوٹے سے