خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 651
خطبات طاہر جلدے 651 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء جواب میں مضمر ہے۔یہ نشان اگر چہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقریباً ۱۹۰۰ سال پہلے ہو چکا تھا لیکن قرآن کریم نے یہ فرما کر اس نشان کو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے سے بھی وابستہ کر دیا کیونکہ اس گفت وشنید کا اور خدا تعالی سے اُس آخری وقت میں دعا کا بائیبل میں کوئی ذکر نہیں ملتا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقریباً ۷۰۰ سال پہلے تک اگر چہ فراعین مصر کی لاشوں کی ممی محفوظ سمجھی جاتی تھیں اور معلوم تھا کہ ان مقابر میں جو بادشاہوں کے مقابر ہیں ان میں محفوظ ہیں۔لیکن ۷۰۰ اسال پہلے وہ اچانک وہ وہاں سے غائب ہو گئیں۔اور پھر کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کہاں چلی گئی ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں بھی اُن کا کوئی وجود کوئی نشان معلوم نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کو بھی ۷۰۰ سال گزر چکے تھے اس لئے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ لاش محفوظ ہے۔علاوہ ازیں چونکہ وہ غرقابی کے ذریعے موت ہوئی تھی اس لئے ایک عام اندازہ لگانے والا شخص یہ اندازہ تو لگا سکتا ہے کہ اس فرعون کی لاش نا پید ہو چکی ہوگی ، مچھلیاں کھا گئی ہوں گی یا وہ دوسری سمندر کی لہریں واپس آئی ہیں چونکہ ڈیلٹا کا واقع ہے اس لئے دریا اور سمندر آپس میں ملتے تھے۔کبھی دریا آگے بڑھ گیا کبھی سمندر آگے بڑھ گیا۔تو ایسے حالات میں بظاہر یہ امید نہیں کہ اُس کی لاش محفوظ ہو سکتی ہے۔اُس وقت قرآن کریم کا یہ بیان کہ خدا تعالیٰ نے فرعون سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم تیری لاش کو محفوظ رکھیں گے تا کہ آئندہ زمانے کے لئے عبرت بنے ، ایک حیرت انگیز نشان ہے اور یہ لاش اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے زمانے میں دریافت ہوئی ہے۔نہ صرف یہ لاش بلکہ سارے فراعین کی لاشیں اسی زمانے میں دریافت ہوئی ہیں۔چنانچہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ اسی صدی کے آغاز میں Egypt (مصر) کے ایک گورنر کو جب یہ معلوم ہوا کہ باوجود اس کے کہ پرانے مقابر سارے لوٹے جاچکے ہیں مختلف اس تاریخی وقتوں میں اچانک مصر میں کچھ ایسے ازمنہ قدیم کے نشانات بکنے شروع ہوئے ہیں جن کے اُس وقت مصر کے بازاروں میں بکنے کی کوئی وجہ نہیں تھی چنانچہ اس گورنر نے جب تحقیق کا حکم دیا تو پتا لگا کہ واقعی وہ شاہی نشانات ہیں اور یقینی طور پر فرامین مصر سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ بادشاہوں کے