خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 646
خطبات طاہر جلدے 646 خطبه جمعه ۲۳ /ستمبر ۱۹۸۸ء کا اثر اس میں موجود ہے لیکن یہاں کچھ عرصہ ٹھہر کر لوگوں سے ملنے کے بعد اور خصوصاً غیر احمدی اور غیر مسلم عیسائیوں اور ہندو بڑے لوگوں سے ملاقات کے بعد بعض مد برین ہمفکرین جو اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے سرداری رکھنے والے لوگ تھے ان سے ملنے کے بعد میرا یہ تاثر ہے کہ سب سے زیادہ دائی اور نیک اثر مولوی اسماعیل صاحب منیر نے چھوڑا ہے اور کوئی ایسا آدمی مجھے وہاں نہیں ملا جو اُن کے زمانے میں کوئی بھی حیثیت رکھتا ہو اور اُس نے نہایت ہی محبت کے ساتھ نہایت خلوص کے ساتھ اُن کا ذکر نہ کیا ہو۔عیسائی پادری اور بڑے بڑے پادریوں نے بھی اُن کا ذکر بڑی محبت سے کیا اور کافی عرصہ تک اُن کی بڑی پرانی باتیں اپنے دلی تعلق کے ساتھ کرتے رہے اور ہندو پنڈتوں نے بھی اُن کا ذکر کیا اور سیاسی لیڈروں نے بھی اُن کا ذکر کیا اور عدلیہ کے جوں نے بھی اُن کا ذکر کیا۔معلوم ہوتا ہے وہ جب تک یہاں رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے گردو پیش ہر قسم کے ماحول میں نفوذ پیدا کرتے رہے اور بہت اچھے نیک اثرات پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔اس لئے جہاں باقی سب مبلغین کو اُن کی عمومی خدمات میں ہمیں یا درکھنا چاہئے۔خصوصیت کے ساتھ مولانا اسماعیل صاحب منیر کی نیک خدمات کے نتیجے میں اُن کو یاد رکھنا چاہئے اور اس مضمون کو خاص طور پر باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہمارے اسیران راہ مولا میں اُن کا بیٹا بھی شامل ہے۔محمد الیاس منیر ان کا صاحبزادہ جو واقف زندگی ہے اور میں اُس کو بچپن سے جانتا ہوں نہایت ہی نیک فطرت بہت ہی نیک صفات اور بہت ہی مخلص فدائی انسان ہے خالصہ اللہ وقف کرنے والا اور خالصہ اللہ وقف کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ، ایک جھوٹے الزام میں پھانسی کا پھندا اُس کے سر پر لٹکایا گیا اور ابھی تک وہ انتہائی تکلیف میں بے جا مظالم کا نشانہ بنا ہوا کال کوٹھڑی میں قید ہے لیکن اُس کے خطوط آپ دیکھیں تو اُن میں کال کوٹھڑی کے اندھیرے کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔خدا کی محبت میں روشن اور منور ہیں اور اُن میں دین اور ایمان اور محبت اور خلوص کی ایسی روشنی پائی جاتی ہے کہ ان خطوں کو دیکھ کر انسان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے کہ کیسے کیسے لوگ اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں کوئی دنیا کی طاقت اُن کو مرعوب نہیں کر سکتی۔ایسا زندہ ایمان بخش دیا ہے کہ اُس ایمان پر کبھی موت نہیں آسکتی بلکہ موت کے خطرات میں اور زیادہ چمکتا ہے اور زیادہ دمکتا ہے اور زیادہ روز روشن کی طرح نمایاں ہو کر آفتاب نصف النہار کی طرح چمکتا اور دمکتا ہوا ظاہر ہوتا ہے۔اندھیرے اُس کی روشنی کو دھندلا نہیں سکتے اور بھی زیادہ تیز کر دیتے ہیں۔ایسے اور بھی راہ مولا کے