خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 645
خطبات طاہر جلدے 645 خطبه جمعه ۲۳ /ستمبر ۱۹۸۸ء میں انسان کے ساتھ ایک ہی سلوک کیا کرتی ہے اور جہاں تک نشانات کا تعلق ہے تم اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے مگر ہم تمہیں آج متنبہ کرتے ہیں کہ تمہارے نشان باقی رہیں گے۔اور آج تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ ان چھوڑے ہوئے نشانات کے نتیجے میں جو تم اپنے کردار کو آئندہ نسلوں کے سامنے پیش کرو گے اُن کے بداثرات بھی ہو سکتے ہیں ، اُن کے اچھے اثرات بھی ہو سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ تمہیں اُن اثرات کے لحاظ سے جوابدہ سمجھے گا۔وَلْتَنْظُرْ کا یہی مطلب ہے ورنہ کوئی سیر کی چیز تو نہیں تھی جو خدا دکھلا رہا تھا کہ کیا نشان پیچھے چھوڑ کر جارہے ہو۔مراد وَلْتَنْظُرُ سے یہ کہ چھوڑے ہوئے نشان آئندہ قیامت کو تم پر گواہی دیں گے اگر تم اعلیٰ اخلاق کے نشان پیچھے چھوڑ کے جاؤ گے ، قابل تقلید نمو نے چھوڑ جاؤ گے تو خدا کے ہاں اپنی آئندہ زندگی میں ہی اس کا اجر ملے گا۔اگر تم اس کے برعکس برے اثرات اور بری رسمیں پیچھے چھوڑ جاؤ گے تو خدا ان معاملات میں ہی تمہاری جواب طلبی کر لے گا۔ایک اور احمدی بزرگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے اُن کا نام حضرت حافظ عبید اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔وہ اگر چہ بہت تھوڑا عرصہ زندہ رہے اور چھوٹی عمر میں یعنی ۳۲ سال کی عمر میں وفات پاگئے لیکن اُن کے چھوڑے ہوئے نیک اثرات بھی آج تک زندہ ہیں اور گوعمر چھوٹی تھی لیکن اُن کی نیکیاں لمبی تھیں اور انشاء اللہ ہمیشہ احمدیت کی تاریخ کے ساتھ ماریشس میں زندہ رہیں گی۔اُن کا مزار ماریشس میں ہے۔میں نے غالبا غلطی سے صوفی غلام محمد صاحب کا کہہ دیا تھا لیکن اُن کا نہیں، وہ ربوہ میں مدفون ہیں۔بہر حال صوفی غلام محمد صاحب واپس چلے گئے تھے۔اور ایک لمبا عرصہ واپس جانے کے بعد زندہ رہے اور مختلف جماعت کے کاموں میں فعال حصہ لیتے رہے۔حضرت حافظ عبید اللہ صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ ۳۲ سال کی عمر میں ہی یہاں وفات پاگئے اور اُن کا مزار یہاں ہے اور ان دونوں مزاروں پر یعنی حضرت حافظ عبید اللہ صاحب اور حافظ جمال احمد صاحب کے مزاروں پر ہمیں جا کر دعا کرنے کی بھی توفیق نصیب ہوئی۔ان بزرگوں کے بعد پھر دوسری نسل کے بہت سے مبلغین یہاں مختلف وقتوں میں تشریف لاتے رہے۔اور اُن کی یادوں میں کچھ تلخیاں بھی ہیں، بہت سی اچھی باتیں بھی ہیں ، حسب توفیق سب نے وقف زندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کی اور جماعت کا مختلف رنگ میں محنتیں کرتے رہے۔یہ جو آج جماعت کی عمدہ حالت ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سب گزشتہ خدمت دین کرنے والوں کی محنتوں