خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 644
خطبات طاہر جلدے 644 خطبه جمعه ۲۳ ر ستمبر ۱۹۸۸ء آثار کی تلاش کریں تو وہ آثار مل ہی جاتے ہیں۔ محققین نے آثار قدیمہ کے ذریعے آپ نے دیکھا نہیں کہ کتنی کتنی پرانی سلطنتوں کے حالات کو دوبارہ اُجا گر کر لیا حالانکہ عام انسان کی نظر کے ساتھ کمزور نظر کے ساتھ ، سرسری نظر کے ساتھ وہاں سے گزرے تو چند بد زیب کھنڈرات کے سوا چند ڈرو نے ٹوٹے ہوئے کمروں اور کچھ نظر نہ آئے لیکن خدا تعالیٰ نے اثرات قائم رکھنے کے جہاں سامان کیئے ہیں وہاں اثرات کو پڑھنے والے نگاہیں بھی عطا کی ہیں۔ چنانچہ ان اثرات کے نشان دیکھنے والے بہت پرانی تاریخوں اور پرانی تہذیبوں کے ایسے واقعات کو دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں اور انکی نظر کے سامنے پوری تاریخ گھومنے لگتی ہے پھر ان سے دوسروں کو متعارف کرتے ہیں جو کتابوں کے صحیفوں میں نہیں ملتی لیکن قدرت کے صفحات میں وہ ہمیشہ کے لئے منضبط ہو چکی ہوتی ہے اور مرتسم ہو چکی ہوتی ہے۔ اس پہلو سے انسان کو یہ سوچتے رہنا چاہئے کہ میں اپنے سفر میں خواہ میر اسفر انفرادی ہو یا قومی ہو کچھ نشان ضرور چھوڑ رہا ہو ۔ بعض لوگ قومی نشان چھوڑتے ہیں جیسا کہ میں نے ذکر کیا آپ نے ملک میں دو بلکہ تین عظیم بزرگ آئے اور انہوں نے قائم رہنے والے نقوش اپنے پیچھے چھوڑے جن کے حسین پہلو ہمیشہ نمایاں رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن کے لئے دعاؤں کی تحریک پیدا کرتے رہیں گے ۔ مگر ہر انسان خواہ وہ ایک وسیع دائرے کا سفر کر رہا ہو یا مختصر عالمی دائرے کا سفر کر رہا ہو خاندانی دائرہ کا سفر کر رہا ہو اُس کو یہ مضمون ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اُس کے اثرات بھی باقی رہتے ہیں ۔ قوم پر نہیں تو خاندان پر رہتے ہیں ۔ وسیع خاندان پر نہیں تو اپنی بیوی پر اپنے بچوں پر باقی رہتے ہیں اور وہ اثرات اتنے اہم ہیں انسانی زندگی کے لئے قرآن کریم اُن کا ذکر کرتے ہوئے انسان کو متنبہ کرتا ہے۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر : ۱۹) اے انسانوں وہ جو ایمان لائے ہو خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور خبر دار اس بات پر ہمیشہ نگران رہو کہ تم آئندہ آنے والوں کے لئے اپنے کیا نشان پیچھے چھوڑ کر جارہے ہو ۔ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ یہاں ہر مومن کو مخاطب کیا گیا ہے یہ نہیں فرمایا گیا کہ اے بڑے لو گو اور اے قوم کے رہنماؤ اور اے بڑے بڑے وسیع اثرات رکھنے والو بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو مومن ہے اُسے یا د رکھنا چاہئے کہ خدا کی تقدیر ہر بعض معاملات