خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 643

خطبات طاہر جلدے 643 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۸ء تھا۔انہوں نے آگے نیروبی، کینیا اور پھر یوگنڈا جانا تھا اور پھر اللہ کے فضل سے یوگنڈا میں انہوں نے بہت ہی اچھے تاثرات چھوڑے اور خدا کے فضل سے جماعت کی عظیم الشان خدمت سرانجام دی۔اُن کے بعد یہاں دو ایسے احمدی بزرگ آئے جن کے بہت ہی وسیع اور گہرے اثرات یہاں آج تک ملتے ہیں۔ان میں سے ایک تو حضرت صوفی غلام محمد صاحب رضی اللہ عنہ تھے اور ایک حضرت حافظ جمال احمد صاحب رضی اللہ۔صوفی صاحب صحابی بھی تھے عالم بھی تھے بڑے مخلص انسان تھے اور بڑی وجیہ شخصیت تھی اور ان کی تبلیغ سے بہت سے ایسے احمدی ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جن کے کثرت سے بڑے وسیع خاندان یہاں دکھائی دیتے ہیں اور اسی طرح حافظ جمال احمد صاحب کو بھی یہاں کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ان کے اپنے خاندان کو خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت میں ہمیشہ نمایاں خدمت کا مقام ملتا رہا ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی ملتا رہے گا۔انہوں نے بہت لمبا عرصہ ماریشس میں رہ کر دین کی خدمت کی ہے اور بہت ہی وسیع اثرات اُن کے آج تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہیں اور وہ یہیں مدفون ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔دو بزرگ ( حافظ عبید اللہ صاحب اور حافظ جمال احمد صاحب) ماریشس کی سرزمین میں مدفون ہیں۔اور ہمیشہ کے لئے ماریشس کی سرزمین کو ان کے پاک وجودوں سے عزت ملتی رہے گی۔جو انسان بھی کسی ملک کا سفر کرتا ہے تھوڑی دیر ہے خواہ زیادہ دیر رہے کچھ اثرات پیچھے چھوڑ جایا کرتا ہے۔نقوش پا یعنی قدموں کے نشان تو تھوڑی ہی دیر میں مٹ جایا کرتے ہیں اور ہوائیں اُدھر سے چلتی ہیں ادھر سے چلتی ہیں دوسرے قدموں کے نشان کو روند دیتے ہیں اور وہ کچھ دیرٹھہرنے کے بعد بالآخر مٹ جایا کرتے ہیں لیکن انسانی قدموں کے نشان یعنی اُن کی صفات کے نشان، اُن کے اخلاق کے نشان ، اُن کی عظیم ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کے نشان یہ ایک نقش دائم بن جایا کرتے ہیں۔کوئی دنیا کی طاقت ان کو مٹا نہیں سکتی لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر انصاف کرتی ہے اُن کی خوبیوں کو ہی نقش دوام نہیں بناتی بلکہ کمزوریاں بھی من وعن ایک اچھے کیمرے کی کھینچی ہوئی تصویر کی طرح اُن نقوش میں ظاہر ہوتی ہیں اور انسان کی پوری شخصیت اُس کے چھوڑے ہوئے اثرات میں منعکس ہوتی رہتی ہے۔آپ اُسے دیکھ سکتے ہیں، اگر آپ دیر کے بعد بھی وہاں جائیں تب بھی اگر ذہانت کے ساتھ کرید کے ساتھ پرانے