خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 617 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 617

خطبات طاہر جلدے 617 خطبه جمعه ۹ ر ستمبر ۱۹۸۸ء دوره تنزانیہ اور جماعت تنزانیہ کو تین قیمتی نصائح (خطبه جمعه فرموده ۹ رستمبر ۱۹۸۸ء بمقام دار السلام تنزانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کا بہت احسان ہے کہ اُس نے مجھے آپ کے اس پیارے وطن تنزانیہ میں آنے کی توفیق عطا فرمائی اور جیسا کہ میں بارہا پہلے بھی کہہ چکا ہوں جس ملک کی بھی بات کروں ، جس ملک میں بھی جاؤں، جہاں جہاں کسی وطن میں احمدیت موجود ہے یا جو ملک بھی احمدیت کا وطن ہے وہ میرا بھی وطن ہے اور اس سے زیادہ میں کسی وطن کی محبت کی اور رنگ میں بات نہیں کر سکتا۔اس لیے جو آپ کا وطن ہے وہ میرا بھی وطن ہے اور جتنی آپ کو اس وطن سے محبت ہے، مجھے آپ سے کم نہیں۔در حقیقت اسلام کا ایک پہلو سے تو کوئی وطن بھی نہیں کیونکہ تمام دنیا کا مذہب ہے اور ایک پہلو سے ہر ملک اسلام کا وطن ہے۔رحمہ العلمین ﷺ کو جب خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کا فرمانروابنا کر بھجوایا تو اس وقت آپ عرب کے نہ رہے بلکہ تمام دنیا کے ہو گئے اور آپ کے بچے غلام بھی دراصل یہ عالمی حیثیت رکھتے ہیں۔پس جس طرح آپ کا وطن میرا وطن ہے۔میرا وطن آپ کا بھی وطن ہے اور اسی طرح جہاں جہاں احمدیت موجود ہے وہ سب دنیا کے سچے مسلمانوں کا وطن بن جاتا ہے۔یہاں آکر مجھے خاص طور پر اس لیے بھی خوشی ہوئی کہ یہ ہمارے بہت ہی پیارے اور مخلص احمدی دوست عمری عبیدی مرحوم کا وطن ہے۔پس وطن کی جو تعریف میں نے کی ہے۔وہ اپنی جگہ لیکن اُس کے باوجود ہم میں سے بعض بعض جگہوں پر پیدا ہوتے ہیں وہاں شہری حقوق رکھتے ہیں۔اس لحاظ سے اُن کو اُس وطن سے دوہری نسبت ہو جایا کرتی ہے۔پس یہ جو وطن ہے کے اس پہلو سے عمری عبیدی مرحوم کو یہاں سے دوہری نہیں بلکہ تہری