خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 616 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 616

خطبات طاہر جلدے 616 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء عطا فرمائی ہے کہ ہم پورا دیں بلکہ انشاء اللہ اس سے بھی بڑھ کر دیں گے تو خدا کے معاملات میں کنجوسی بہت ہی بیوقوفی ہے، ایک قسم کی خود کشی ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ احمدی نوجوان یا بڑے جواس کمزوری میں مبتلا ہیں وہ اپنی خاطر اپنے حالات پر نظر ثانی کریں گے اور جماعت کی منتظمہ کو چاہئے کہ ان کو سمجھائیں پیار اور محبت کے ساتھ۔خدا تعالیٰ نے میرے سپرد یہ ذمہ داری کی ہے جس طرح میری زبان میں ان کے دل پر اثر ہو سکتا ہے دوسری زبان میں وہ اثر نہیں ہوسکتا۔اسلئے نہیں کہ مجھے زیادہ اچھا بولنا آتا ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا ہر احمدی سے ایک ذاتی رشتہ باندھ دیا ہے۔اب ایک عام آدمی کسی کو نصیحت کرتا ہے اُس کا وہ اثر نہیں ہوسکتا لیکن جب باپ نصیحت کرتا ہے اُس کا زیادہ اثر ہوتا ہے، ماں نصیحت کرتی ہے اُس کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔اکثر احمدیوں کا خلیفہ وقت سے ایسا تعلق ہے جو ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہے اور خلیفہ وقت کی آواز میں اس وجہ سے اثر ہوتا ہے خواہ وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں ہی کہہ رہا ہو۔تو کیسٹس موجود ہیں وہ لے کر یہ نکالیں پرانی کیسٹس کو ایسے خطبات ہیں جن میں مالی قربانی کا ذکر ہے وہ احمدی نوجوانوں کو ، بڑوں، چھوٹوں کو سنا ئیں اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن کے دلوں میں نرمی پیدا ہو جائے گی وہ مالی قربانی میں آگے بڑھیں گے اور ہم جو آج محتاج ہیں کہ زیادہ سے زیادہ احمدی اپنے آپ کو خدمت دین کیلئے پیش کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری ضرورتیں پوری کرنے کے نئے سامان پیدا ہو جائیں گے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ یہاں کی جماعت اپنے مخفی جو ہروں کو آگے باہر نکالے گی۔یہ کہنا غلط ہے۔میں ہرگز آپ کے اوپر باطنی نہیں رکھتا کہ آپ ایک مردہ دل جماعت ہیں یا آپ کے اندر صلاحیتیں موجود نہیں۔میں خدا کے فضل سے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکا ہوں۔آپ میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو دنیا کی کسی بھی نہایت ترقی کرنے والی جماعت میں موجود ہیں۔آپ میں کسی دوسرے سے کوئی کمی نہیں۔یہ چند نصیحتیں جو میں نے آپ کے سامنے کی ہیں ان پر عمل کریں پھر دیکھیں انشاء اللہ دیکھتے دیکھتے یہاں کے حالات تبدیل ہو جائیں گے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو اور آئندہ میں اسی وقت یہاں آؤں گا جب آپ لوگ کثرت سے پھیل رہے ہوں۔ہر طرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے نئی حدیں پار کر رہے ہوں گے۔پھر مجھے دعوت دیں اسکے بغیر میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا۔