خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 57
خطبات طاہر جلدے 57 خطبہ جمعہ ۲۲ جنوری ۱۹۸۸ء بڑے لوگ ہیں دنیا کی نظر میں بڑے لوگ حکومت کے باشندے ہوں یا دیگر بڑے رتبے رکھتے ہوں جن سے بھی میری ملاقات ہوئی ہے سب نے اس بات کا خصوصیت سے ذکر کیا اور اس سے وہ بے حد متاثر نظر آتے تھے۔پس میں نے یہ فیصلہ کیا ہے جب میں کہتا ہوں تو مراد میں اکیلا نہیں میں جماعت کی نمائندگی میں بولتا ہوں یا یہ کہنا چاہئے کہ دنیا کی عالمگیر جماعت احمدیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس ملک کے ساتھ اپنے تعاون کو پہلے سے زیادہ بڑھائے اور خدمت کی نئی راہیں تلاش کرے اور جس حد تک ممکن ہے اس ملک کے نیک دل باشندوں کو دنیاوی لحاظ سے بھی فائدے پہنچائے صرف مذہبی اور روحانی لحاظ سے ہی نہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ باقی افریقہ کے ملکوں کے دورے کے وقت بھی ایسے امور سامنے آئیں گے جبکہ دل کی گہرائی سے ان ملکوں کے باشندوں کی خدمت کے لئے بھی ارادے بلند ہوں گے اور دعا کی توفیق ملے گی کہ اللہ تعالیٰ ان کے حال بہتر کرے اور ہمیں توفیق بخشے کہ ہم ان کی خدمت میں پہلے سے زیادہ آگے بڑھ جائیں۔افریقہ کے ساتھ تاریخ میں، تاریخی نکتہ نگاہ سے جب دیکھا جائے تو جو سلوک ہوا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ باہر سے بہت سی قو میں آئیں اور ترقی کے نام پر انہوں نے یہاں پر بہت سے کام کئے لیکن خلاصہ یہ تھا کہ انہوں نے افریقہ میں کمایا اور باہر کی دنیا میں یہاں کی کمائی خرچ کی۔خدا تعالیٰ نے میرے دل میں بڑے زور سے یہ تحریک پیدا فرمائی ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ اس تاریخ کا رُخ بدل دیا جائے اور تمام عالمگیر جماعت احمد یہ دنیا میں کمائے اور افریقہ میں خرچ کرے اور دوسروں نے ، غیروں نے جو آپ کو زخم لگائے ہیں احمدیت کو خدا یہ توفیق بخشے کہ ان زخموں کے اند مال کا سامان پیدا فرمائے۔غیر آپ کی دولتیں لوٹ چکے وہ تو واپس نہیں کریں گے لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچے غلاموں یعنی جماعت احمدیہ کو یہ توفیق عطا فرمائے گا کہ ان کی لوٹی ہوئی دولت جماعت احمد یہ آپ کو واپس کر رہی ہوگی۔اس وقت ان سکیموں کی تفصیل بیان کرنے کا وقت نہیں جن کے متعلق اس خطبہ سے پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے۔اس وقت میں ان مشوروں کی روشنی میں جو ہو چکے ہیں مثلاً آج آپ کے ملک کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران بھی اس بات کے مختلف پہلوؤں پر غور ہوتا رہا کہ کس طرح ہم گیمبیا کی پہلے سے بہت زیادہ خدمت کر سکتے ہیں۔پس ان مشوروں کی روشنی میں میں تمام دنیا کی احمدی جماعتوں کو سر دست پہلی ہدایت یہ کرتا