خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 58
خطبات طاہر جلدے 58 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۸۸ء ہوں کہ وہ کمر ہمت کس لیں اور افریقہ کی ہر میدان میں پہلے سے بڑھ کر محض اللہ خدمت کرنے کی تیاری شروع کریں۔مثلاً امریکہ کی احمد یہ ڈاکٹرز ایسویسی ایشن جلد از جلد اپنے نمائندے بھجوائے جو سارے افریقہ کے ان ممالک کا دورہ کریں جن میں جماعت احمد یہ کسی رنگ میں خدمت کر رہی ہے۔اور جائزہ لے کر واپس جا کر اپنی مجلس میں معاملات رکھیں اور پھر ان کی مجلس کی طرف سے احمد یہ ڈاکٹرز ایسویسی ایشن امریکہ کی طرف سے مجھے یہ سفارشات ملیں کہ افریقہ میں خدمت کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے یہ یہ تجاویز ہم پیش کرتے ہیں اور ان میں ہماری طرف سے یہ تعاون ہوگا۔اسی طرح انگلستان، یورپ اور دیگر ممالک کے ڈاکٹرز کی ایسویسی ایشن بھی مجھ سے رابطہ کریں اور بتائیں کہ وہ اس ضمن میں کیا خدمت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ڈاکٹروں کو تو میں نے ایک مثال دی ہے اس کے علاوہ بھی دنیا میں جس پروفیشن سے، جس پیشے سے یا جس علمی مہارت سے تعلق رکھنے والے احمدی موجود ہیں ان سب کو اپنے اپنے حالات کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ افریقہ کی مظلوم انسانیت کی خدمت کے لئے اپنا کتنا وقت پیش کر سکتے ہیں اور کیا ان کی صلاحتیں ہیں جنہیں وہ افریقہ کے لئے احسن رنگ میں استعمال کر سکتے ہیں۔اسی طرح مختلف پیشہ ور ہی نہیں تاجر وہ بھی ایک پیشہ ہی ہے یعنی میرا مطلب ہے فنی مہارت رکھنے والے ہی نہیں بلکہ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مثلاً تاجر ہیں ، صنعتوں والے ہیں۔جن کو کسی خاص صنعت کاری کا تجربہ ہے۔مثال کے طور پر یہاں اگر مرغی خانوں کے لئے امکانات موجود ہیں۔مرغی خانے جاری کرنے کے لئے نئے جدید طریق پر تو اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جنہیں زیر غور لانا ہوگا اور جن میں جماعت احمدیہ کے صاحب تجر بہ لوگوں کو اپنی خدمات پیش کرنا ہوں گی۔پس یہ تحریک روپے پیسے والی دولت سے تعلق رکھنے والی تحریک نہیں ہے بلکہ قابلیت کی دولت سے تعلق رکھنے والی تحریک ہے۔پس ہر شخص مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرہ:۴) کی ہدایت کے تابع اپنی ان اعلیٰ قابلیتوں کو افریقہ کی خدمت میں خدا کی خاطر پیش کرنے کے لئے تیاری کرے اور اپنے کوائف سے مجھے مطلع کرے۔ایسے ماہرین احمدی انجینئر ز موجود ہیں جنہوں نے عمر بھر بجلی کے شعبوں میں کام کیا اور بجلی با کرنے کے طریقوں سے بہت اچھی طرح واقف اور دنیا کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ایسے احمدی انجینئر اور اوور سئیر زموجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سڑکوں کی تعمیر میں پیدا