خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 601 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 601

خطبات طاہر جلدے 601 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء جماعت کینیا کا ماضی اور حال۔انہیں انجمادتوڑنے ، قیادت ابھارنے اور مالی قربانی کی نصیحت (خطبه جمعه فرموده ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء بمقام نیروبی، کینیا ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: مختلف احباب جو کینیا کسی لحاظ سے کسی کام کے لئے آتے رہے ہیں اور پھر واپسی پر انگلستان میں مجھ سے ملتے رہے ہیں ان سے جب بھی میں نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں کیا وجہ ہے کہ کینیا کی جماعت منجمد سی نظر آتی ہے اور اس میں دنیا کی باقی جماعتوں کی طرح ترقی کے وہ آثار دکھائی نہیں دے رہے جو باقی دنیا کی جماعتوں میں خاص طور پر نمایاں ہو کر نظر آنے لگے ہیں۔باقی دنیا کی جماعتیں ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہیں جو نشو ونما کا ایک ایسا دور ہے جسے بہار سے مماثلت ہے اور خدا کے فضل سے وہ جماعتیں بھی جو ایک عرصہ سے خاموش تھیں ان میں غیر معمولی جدوجہد ، غیر معمولی جذبہ، غیر معمولی عزم اور غیر معمولی حرکت دکھائی دینے لگی ہے۔اس کے جواب میں مجھے ہمیشہ یہی کہا گیا کہ اس کی دو وجوہات ہیں۔اول یہ کہ کینیا کے بہت سے پرانے مخلص احمدی خاندان جو دراصل کینیا کی جماعت کی روح رواں تھے وہ کینیا سے ہجرت کر کے انگلستان چلے گئے ہیں اور وہیں آباد ہو گئے ہیں۔وہ پرانے تجربہ کار احمدی جو ہر لحاظ سے تربیت یافتہ تھے بہت سے ان میں سے ایسے تھے جن کی ہندوستان میں یا پاکستان میں لمبا عرصہ تربیت ہوئی تھی وہ اپنے پیچھے ایک بہت بڑا خلا چھوڑ گئے ہیں اور دوسری وجہ یہ بیان کی گئی کہ جونئی نسلیں پیچھے رہ گئی ہیں ان کو احمدیت میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی اور ایک قسم کا قحط الرجال سا ہے۔