خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 602
خطبات طاہر جلدے 602 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۸ء جہاں تک میرے جائزہ کا تعلق ہے میرے نزدیک یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔نہ پہلی بات میں کوئی حقیقت ہے نہ دوسری بات میں کوئی جان ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ کینیا وہ ملک ہے جس میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سب سے پہلے افریقہ کے براعظم میں جماعت احمدیہ قائم ہوئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے بزرگ صحابہ یہاں تشریف لائے اور اس جماعت کا جسے کیفیا کی جماعت کہتے ہیں نہایت ہی بابرکت آغا ز صحابہ سے ہوا اور وہی اس جماعت کی مقدس اینٹیں بنے جن پر آئندہ بنیاد ڈالی گئی۔سب سے پہلے اس جماعت کا قائم ہونا اور اس کے بعد بعض دوسری وجوہات کے نتیجہ میں نشوونما میں افریقہ کی تمام دوسری جماعتوں سے پیچھے رہ جانا یہ کچھ اور وجوہات اپنے اندر رکھتا ہے۔جو وجہ میرے سامنے بیان کی گئی وہ درست نہیں۔میں نے ایک تفصیلی جائزہ لیا تاریخی لحاظ سے کہ مختلف وقتوں میں یہ جماعت کس کس طرح نشو ونما پاتی رہی کن کن نئے علاقوں میں پھیلتی رہی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ مخلص خاندان جن کے انخلا کو یہاں کی جماعت کی کمزوری بتایا جارہا تھا جب تک وہ یہاں رہے جماعت نے کسی قسم کی کوئی ترقی نہیں کی اور تمام کینیا کے مقامی باشندے جماعت کے نیک اثرات سے اسی طرح محروم رہے جیسے بعد میں محروم دکھائی دیتے ہیں۔اگر کوئی نشو ونما کا دور تھا تو وہ آغاز میں صحابہ کا دور تھا جنہوں نے بہت قربانیاں دیں، بہت عظیم الشان جدوجہد کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خدا کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے بڑی محنت سے یہاں جماعت احمدیہ کے پودے کو نصب کیا۔پس یہ کہنا کہ چونکہ بہت سے مخلص خاندان یہاں سے رخصت ہو کر انگلستان آباد ہو گئے اس لئے ترقی رک گئی حقائق اس کو جھٹلا رہے ہیں۔اگر یہ بات درست ہوتی تو بیعتوں کا گراف اس بات کو نمایاں طور پر دکھاتا اور گزشتہ بیعتوں کے جائزے سے ہم یہ بات بآسانی معلوم کر سکتے کہ جس زمانے میں یہاں سے بعض ایشیائی خاندانوں کا انخلا ہوا ہے اس زمانے تک تو غیر معمولی طور پر سالا نہ بیعتوں میں اضافہ رہا ، نمایاں طور پر بڑھوتی رہی یعنی نمایاں تعداد میں بیعتیں ہوتی رہیں اور جس سال یا جن چند سالوں میں وہ یہاں سے رخصت ہوئے ان سالوں میں اچانک بیعتوں کی رفتار گر گئی اور دور دراز علاقوں میں جہاں احمدیت بڑی تیزی سے پھیل رہی وہیں اس کے قدم رک گئے۔اگر یہ تصویر ہوتی تو جو وجہ بیان کی گئی تھی وہ درست ثابت ہوتی لیکن ایسی کوئی تصویر نہیں ابھرتی ان کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا،