خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 588

خطبات طاہر جلدے 588 خطبه جمعه ۲۶ راگست ۱۹۸۸ء مطمئن نہیں، بلوچی کو سب سے شکوہ ہے ہمارے چھوٹے سے ملک کی دولت پر قابض ہیں۔سوئی گیس پاکستان میں ہر جگہ ملتی ہے سوائے بلوچستان کے اس قسم کے بہت سے ایسے معاملات ہیں جو بے اطمینانی کو فروغ دیتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس بے اطمینانی کو تیل مہیا کیا جاتا ہے اور ہر جگہ Intelligence کے ایجنٹس پھیل جاتے ہیں اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح قوم متحد نہ ہو سکے۔اُس کے پھر بداثرات پیدا ہوتے ہیں۔قوم کی فوج سے نفرت بڑھنی شروع ہو جاتی ہے بے اطمینانی کے باوجود وہ یہ نتیجہ نہیں نکالتے کہ دراصل فوج ہمیں بچائے ہوئے ہے بلکہ وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں اور اُن کی عقلیں اس بات کو بھانپ جاتی ہیں کہ ہم سے کھیل کھیلا جارہا ہے۔نتیجہ اپنے وطن کی فوج سے اہل وطن کی دوری بڑھنی شروع ہو جاتی ہے جو ایک انتہائی خطرناک چیز ہے۔اپنے ملک میں جا کر دیکھیں آپ ایک زمانہ تھا کہ عوام الناس فوج پر ایسے عاشق تھے کہ وہ اپنا خون دے کر بھی کسی فوجی کی جان بچانے پر دل و جان سے آمادہ ہوا کرتے تھے۔جب پاکستان اور ہندوستان کی لڑائیاں ہوئی ہیں اُس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ فوج کی محبت اتنی بڑھ جایا کرتی تھی کہ بعض دفعہ جب یہ فوجی واپس آتے تھے اپنے میدانوں سے رخصتوں پر تو بعض شہروں کے دکاندار اپنے دروازے اُن پر کھول دیا کرتے تھے۔جو چیز اٹھا و استعمال کرو تم سے کوئی قیمت نہیں لینی تم قوم کے جان شار ہو۔قوم کے شاعر اُن کے لئے وقف ہو جایا کرتے تھے، قوم کے گلوکار اُن کے لئے وقف ہو جایا کرتے تھے۔اُن کے لئے نغمے بنائے جاتے تھے، نغمے بنے جاتے تھے اور تمام قوم سب سے زیادہ لذت اُن نغموں میں پاتی تھی جو فوج کی تعریف میں لکھے جائیں اور فوج کی تعریف میں گائے جائیں۔ایک وہ بھی زمانہ تھا۔پھر ایک ایسا زمانہ آتا ہے جبکہ فوج کے نام سے لوگوں کے دل متنفر ہوکر بدکنے لگتے ہیں۔وہ منہ سے اظہار کریں یا نہ کریں وہ جانتے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھی نہیں رہے ہمارے دشمن بن چکے ہیں۔یہ نہایت ہی خطرناک نتائج ہیں جو ایک دفعہ پیدا ہوجائیں تو پھر ان سے بچ نکلنا بڑا مشکل ہوتا ہے اور بدقسمتی سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔جب ایک دفعہ سیاست اُن کے قبضے میں چلی جائے تو وہ سیاست سے کھیلتے ہیں اور سیاست دان دن بدن اور زیادہ خائف ہوتے چلے جاتے ہیں اور عوام الناس کو صورت حال سے مطلع نہیں کر سکتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ جس سیاست دان نے یہ بیان