خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 587

خطبات طاہر جلدے 587 خطبه جمعه ۲۶ راگست ۱۹۸۸ء ہیں وہ اپنوں پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور اُن کا دیدہ اُسی طرف کھلا رہ جاتا ہے۔ایسی حکومتیں دن بدن غیر قوموں کی محتاج ہوتی چلی جاتی ہیں اور اُن کو اپنی بقا کے لئے غیر قوموں کی Intelligence پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔یہ قانون طبعی ہے جس میں آپ کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔جس حکومت کو وہ دوست سمجھتے ہیں اور جو طاقتور ہوتی ہے اُس سے اُن کے روابط بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اُن کی Intelligence ان کی حفاظت کی خاطر ملک میں داخل ہوتی ہے۔اور وہ سارے راز جو قوم کی امانت ہوتے ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹے جاتے ہیں۔ایک دوسرے کو اُن رازوں میں شریک کر لیا جاتا ہے۔آپس میں مجالس لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو جی ہماری رپورٹ یہ ہے کہ فلاں پارٹی نے یہ کیا اور فلاں پارٹی نے یہ کیا۔دوسرے کہتے ہیں ہماری یہ رپورٹ ہے کہ تمہارے لئے فلاں جگہ خطرہ پیدا ہو رہا ہے اور فلاں جگہ خطرہ پیدا ہورہا ہے اور ملک کو باہر سے جوخطرہ پیدا ہو رہا ہے اُس کو وہ کلیہ ان بیرونی طاقتوں کے سپر د کر دیتے ہیں کہ تم جانو اور تمہارا کام جانے کہ ہمارے ملک کو کیا خطرہ ہے۔جب تک ہم تمہارے دوست ہیں تمہارا کام ہے ہماری حفاظت کرنا چنانچہ Intelligence کے ذریعے بھی، ہتھیاروں کے ذریعے بھی دن بدن غیر قوموں کا تسلط بدنصیب ملکوں پر بڑھتا چلا جاتا ہے جو اپنی ہی فوج کے غلام بنا دیئے جاتے ہیں۔یہ تمام منطقی نتائج ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہر ملک میں یہی نتائج لازما ظاہر ہوں گے۔بڑے چھوٹے کئے جائیں گے اور چھوٹے بڑے کئے جائیں گے۔فساد پھیلائے جائیں گے اور جوں جوں جرم بڑھتے چلے جائیں گے اندرونی بے ثباتی کا احساس ان ٹولوں میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں ہمارا دوام نہیں ہے ہمیں اور زیادہ شدت اختیار کرنی چاہئے اپنے جبروت میں اور اپنی پکڑ میں۔چنانچہ پھر ظلم شروع ہو جاتے ہیں۔جہاں خطرہ محسوس ہو کسی حصے سے خواہ وہ فوج کا حصہ ہو یا غیر فوج کا حصہ ہوان پر طرح طرح کے مظالم توڑے جاتے ہیں۔پھر ملک کو بانٹا جاتا ہے، سیاست کو تقسیم کیا جاتا ہے، صوبوں کو صوبوں سے لڑایا جاتا ہے، فرقوں کو فرقوں سے لڑایا جاتا ہے۔ہر طرف ایک بے اطمینانی پیدا کر دی جاتی ہے اور عوام الناس پر یہ اثر ڈالا جاتا ہے کہ ہم ہی ہیں جو تمہیں سنبھالے ہوئے ہیں ورنہ یہ ملک رہنے کے لائق نہیں ہے۔پنجابی سندھی کا دشمن ہے، سندھی پنجابی کا، پٹھان پنجابی سے مطمئن نہیں ، پنجابی پٹھان سے