خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 589 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 589

خطبات طاہر جلدے 589 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۸ء دیا کہ فوج کے نتیجے میں تم پر یہ نقصانات ہیں تمہیں یہ مصیبتیں پڑی ہیں۔وہ مارا جائے گا اور فوج اور کسی کو طاقت دے یا نہ دے اُس کو بہر حال نہیں دے گی۔اس لئے ایک قسم کی چاپلوسی کا دور شروع ہو جاتا ہے اندرونی طور پر اور پھر یہی چاپلوسی بیرونی راہیں اختیار کرتی ہے۔سیاست دان بڑے ذہین ہوتے ہیں۔آخر ان کے اپنے میدان کی بات ہے سیاست کوئی دوسرا تو نہیں پڑھا سکتا ، وہ خود سیاست دان ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس فوج کے پیچھے ایک اور آتا ہے، ایک اور مالک ہے جو ان کے پیچھے ہے کیوں نہ براہ راست اُس سے تعلقات بڑھائے جائیں۔اس لئے سارے پھر طاقت کے اصلی سرچشموں کی طرف دوڑ نے لگتے ہیں اور بظاہر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم عوام کی چھینی ہوئی طاقت اُن کو اس طریق سے واپس دلائیں گے۔ایسے سیاست دانوں کو میں بددیانت نہیں کہہ سکتا۔ہوسکتا ہے بعض بد دیانت بھی ہوں لیکن وہ جو عوام کا در درکھتے ہیں وہ اپنی سیاست کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ اُس کے سوا ہمارے لئے چلنے والا کوئی مہرہ نہیں رہا۔اس دفعہ ہم نرمی کے ساتھ سمجھوتے کے ساتھ ،مصالحت کے ساتھ اُن سے طاقت حاصل کر لیں یا اُس میں حصہ دار بن جائیں پھر ہم سیاست دان ہیں ، ہم ذہین ہیں ہم رفتہ رفتہ باقی بھی چھینے لگ جائیں گے اور بالآخر قوم کو اس تسلط سے نجات دلائیں گے۔میں سمجھتا ہوں اُن کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوتی ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ بلی چوہے کے کھیل میں کبھی بھی ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ چو ہاہلی پر غالب آ گیا ہو۔کھیلتے ہیں کچھ دیر کے لئے۔بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے بلی نے موقع دیا ہے چوہے کو بھاگنے کا اور وہ سوراخ کے قریب بھی پہنچ گیا لیکن آپ نے کبھی یہ نہیں دیکھا ہو گا کہ چوہا غالب آجائے۔اس لئے کہ طاقت بلی کے پاس ہے اور چوہے کے پاس طاقت نہیں ہے اور عوامی رہنما بجائے اس کے اپنی طاقت کے سرچشموں کی طرف دوڑیں جب وہ غیر کی دشمن کی طاقت کی طرف جائیں گے تو وہ اور زیادہ کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔اس راز کو وہ نہیں سمجھتے کہ طاقت دراصل اُن کے پاس ہے۔یہ ایک شعور ہے جو بیدار ہونا چاہئے۔اُن کو علم ہونا چاہئے کہ وہی طاقتور ہیں لیکن عوام الناس کی رائے عامہ کو بیدار کریں۔اُن کو بتائیں کہ وہ کون ہیں اور کیا ہیں اور اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔اُن کو چاہئے کہ فوج کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا اور کثرت کے ساتھ اخبارات میں مضامین شائع کر کے، تجزیئے شائع کر کے فوج کے سپاہیوں کو اور فوج کے افسروں کو سمجھائیں سازشوں کے ذریعے نہیں کھلم