خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 583

خطبات طاہر جلدے 583 خطبه جمعه ۲۶ را گست ۱۹۸۸ء ملک پر قبضہ کرتے ہیں لیکن وہ سلطنت بدیسی سلطنت بن جاتی ہے۔ اس لئے قانون قدرت ہمیں بتاتا ہے کہ ضروری ہے کہ جب ؟ ہے کہ جب بھی فوج کسی ملک پر قبضہ کرے تو وہ طاقت کے سرچشمے جو طبعی اُس ملک میں پائے جاتے ہیں اُن کو دبائے اور کمزوروں کو اونچا کرے جن کا تمام تر انحصار اس فوج پر ہو۔ اس لئے یہ جو فرمایا اعزَّةَ اَهْلِهَا أَذِلَّةً کہ ان کے معززین کو ذلیل کر دیا جاتا ہے اور اُس کے برعکس اُن کے ذلیل اور کمزور لوگوں کو اوپر لے آیا جاتا ہے۔ اس میں بڑی بھاری حکمت ہے۔اس قانون طاقت کی کو آپ تبدیل نہیں کر سکتے ۔ کوئی بھی ایسی طاقت جو کسی ملک پر مسلط ہو اور اُسے علم ہو کہ اُس طا جڑیں اُس ملک کے عوام اور اُس کی اکثریت میں نہیں ہیں وہ اس بات پر مجبور ہوگی کہ طاقتور اُس حکومت میں شریک نہ ہوں اور ملک کے حقیقی نمائندے طاقت پر کسی طرح قبضہ نہ کر سکیں کیونکہ جب طاقت ، طاقت کے اہل کے پاس چلی جاتی ہے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اور پھر وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کرے۔ اس لئے ایسی صورت حال میں یہ حکومتیں جو زبردستی کی حکومتیں ہوں وہ مجبور ہو جایا کرتی ہیں کہ طاقت کے سرچشموں سے ہٹ کر کمزوروں کے گروہوں کو اوپر لائیں اور چونکہ وہ لازماً اپنی بقا کے لئے ان فوجی طاقتوں سے لٹکے ہوئے ہوتے ہیں اُن کے پاؤں زمین پر نہیں ہوتے بلکہ ان طاقتوں کی چھت پر لٹکے ہوئے جسموں کی طرح جو ہوا میں معلق ہوتے ہیں اس لئے وہ مجبور ہیں کہ اپنے آقاؤں کی ہر بات کو جس طرح وہ چاہیں اُن پر عمل کریں اور اُن کی Policies کو بلا چون و چراں اپنے ملک میں رائج کریں۔ یہ وہ خلاصہ ہے جو آپ دنیا کی ہر ایسی حکومت میں دیکھیں گے جو فوجی طاقت سے عوام پر قابض ہوئی ہو۔ بیرونی حکومتیں جو یہ طریق اختیار کر رہی ہیں اُس میں بہت سی مثالیں ہیں۔ اُن کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں لیکن یہ بات میں خوب کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی لیڈرشپ کے بہت سے نقصان ہیں جن کا فساد سے تعلق ہے اور وہ طبعی ہیں ۔ کسی ایک قوم کی حکومت کو الگ طور پر متہم نہیں کیا جاسکتا ۔ كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ میں یہ بات ہمیں سمجھا دی کہ یہ ایک عام طبعی قانون ہے جو جاری ہوگا۔ کسی ایک فوج کو آپ الگ کر کے ملزم قرار نہیں دے سکتے ۔ اس نظام کا حصہ ہیں بعض باتیں جو لازماً جاری ہوں گی ۔ فساد جو ایسی حکومتوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اُن کی کئی قسمیں ہیں۔سب سے پہلے بات آپ ان حکومتوں میں آپ یہ دیکھیں گے کہ چونکہ بعض ٹولے جو