خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 582

خطبات طاہر جلدے 582 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء کہ جب بھی فوجیں کسی ملک پر مسلط ہوتی ہیں تو اُس کے نتیجے میں فساد پھیلتا ہے۔حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک خراج تحسین بھی اس میں دیا گیا ہے۔ملکہ سبانے یہ نہیں کہا کہ سلیمان جب اس ملک پر قابض ہوں گے تو وہ ایسا کریں گے یہ بتایا کہ سلیمان سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہ اس شان کا انسان ہے کہ وہ اپنی ذات میں کسی ملک میں فساد پھیلانے کی نیت سے داخل نہیں ہوگا۔امن کے ساتھ اگر ہم اُس سے صلح کا معاہدہ کر لیں تو ہمیں کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر فوج کشی کے ذریعے وہ داخل ہوئے تو یہ ایک قانون عام ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔فوجیں جب بھی مسلط ہوتی ہیں اُس کے نتیجے میں فساد برپا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں اور چھوٹے بڑے کئے جاتے ہیں۔زمانے کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔اگر چہ فوج کشیاں اب بھی جاری ہیں۔ملوک خواہ کسی بھیس میں ہوں کسی شکل میں ہوں وہ دوسرے ممالک پر قبضہ کرنے کی سکیمیں بھی بناتے ہیں اور قبضہ کر بھی لیتے ہیں لیکن اس دور نے ایک نئی قسم کی فوج کشی کو جنم دیا ہے جو اس جدید دور سے خصوصیت کے ساتھ متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ باہر کی فوجیں بھیج کر کسی ملک پر قبضہ کرنے کی بجائے اُس ملک کی فوج کے ذریعے اُس ملک پر قبضہ کیا جاتا ہے اور یہ وہ دور ہے جس میں مارشل لاء کی اصطلاح ایجاد ہوئی ہے اور تمام عصر حاضر کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہی پتا چلتا ہے کہ آج کل کسی ملک پر قبضہ کرنے کے لئے سب سے مؤثر ذریعہ اُس ملک کی فوج پر قبضہ کرنا ہے اور اس فوج کے ذریعے پھر اُس ملک پر حکومت کرنا ہے لیکن خواہ یہ بظاہر امن کے ساتھ ہو یا خون خرابے کے ساتھ ہو یہ نتائج جو ملکہ سبانے نکالے تھے یہ آج بھی اطلاق پاتے ہیں اور اس میں آپ کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔یہ جو کہا وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ اسی طرح ہوا کرتا ہے، اسی طرح کیا کرتے ہیں سب۔یہ خدا تعالیٰ نے فقرہ محفوظ فرمالیا۔اگر یہ فقرہ غلط ہوتا، اگر یہ نتیجہ غلط ہوتا تو قرآن کریم کا اس کی تردید فرماتا۔قرآن کریم اس کی تردید نہ کرنا بلکہ اس کی نصیحت کے ایک حصے کو محفوظ کر لینا آئندہ نسلوں کے لئے ایک بہت بڑا سبق رکھتا ہے۔اس پہلو سے گزشتہ خطبے کے تسلسل میں میں اپنی قوم کو کچھ نصیحت کرنی چاہتا ہوں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی طاقت ملک کی اندرونی سرزمین سے نہ اٹھ رہی ہو اور ملک کے عوام سے نہ پھوٹ رہی ہو وہ طاقت بہر حال بیرونی رہتی ہے اور بظاہر اس ملک کے فوجی ہی اُس