خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 548
خطبات طاہر جلدے 548 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۸ء لوگ دل میں یہ عادت داخل کر دیتے ہیں۔یعنی اُن کے مزاج میں، اُن کی عادات میں فطرت ثانیہ کی طرح یہ کبھی داخل ہو جاتی ہے کہ جب بھی خدا کی طرف سے کوئی آئے اُس کے ساتھ استہزاء کا سلوک کرنا ہے لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ وہ ایمان نہیں لاتے۔بھیجے ہوئے پر ایمان نہیں لاتے اور اُن کے لیے اور اس سے پہلے لوگوں کی سنت اور اُن کی تاریخ ایک نمونہ بن جاتی ہے یعنی اس نمونے کے پیچھے چلنے والے ہیں۔گویا وہی لوگ ہیں جو گزشتہ زمانوں میں اسی قسم کی حرکتیں کر چکے ہیں اور اب دوبارہ ظاہر ہوئے ہیں۔تو اپنے سے پہلوں کی سنت پر عمل کرنے والے ہیں اور اُس کے مقابل پر خدا کی بھی ایک سنت ہے۔اُس کا بھی یہیں ذکر ہے فر مایا قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ حالانکہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے پہلے اسی قسم کے لوگوں کے ساتھ خدا کی کیا سنت جاری ہوئی تھی اور ان دونوں سنتوں میں آپ کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔نہ ان بدکردار لوگوں کی سنت میں تبدیلی دیکھیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے اُن کے جرموں کی وجہ سے ایک غلط طرز عمل اختیار کرنے پر پابند فرما دیا ہے۔اُن کے دلوں میں جاگزین کر دی ہے یہ بات کہ تم اس لائق نہیں ہو کہ بچوں کو قبول کرو اس لیے تم جس حد تک تم سے ممکن ہے کج روی اختیار کرو۔دوسری طرف سُنَّةُ الْأَوَّلِین سے مراد وہ سنت ہے جو اولین کے بارے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی رہی ہے۔جو ان کے ساتھ خدا کا سلوک ہوتارہا ہے۔وہ اُن کی سنت بن گیا یعنی پہلے انکار کی سنت اور پھر ہلاکت اور تباہی کی سنت وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاء فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کے او پر اگر ہم آسمان سے دروازے بھی کھول لیں۔ایسے دروازے جن پر یہ چڑھ سکیں اور خود آسمان کی بلندیوں پر جا کر سچائی کا مشاہدہ کریں اور نشانات کو دیکھ لیں لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا وہ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد یہ کہیں گے کہ ہماری آنکھیں مد ہوش ہو گئی ہیں، ہماری آنکھوں کو نشہ چڑھ گیا ہے بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ ہم تو ایسی قوم ہیں جس پر جادو کر دیا گیا ہے۔ان آیات میں دو مضامین بیان ہوئے ہیں۔اگر چہ تسلسل ہے مضمون کا، لیکن اس مضمون کو دوحصوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔پہلا یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے، خدا تعالی کی یہ تقدیر ہے کہ بعض لوگ لازماً اس کے بندوں سے اُس کے بھیجے ہوؤں سے استہزاء کا سلوک کرتے ہیں اور اُن کا یہ رویہ اُن کا مقدر بنا دیا جاتا ہے۔ان کے دلوں میں یہ بات داخل کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اُس سے ٹل نہیں سکتے ، اُن کے مقدر میں یہ