خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 547
خطبات طاہر جلدے 547 خطبه جمعه ۱۲ راگست ۱۹۸۸ء حضور کی ایک رؤیا کا ذکر۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے نشانات دیکھ کر قو میں ایمان نہیں لاتیں۔مکذبین کو انتباہ خطبه جمعه فرموده ۱۲ اگست ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات تلاوت کیں: وَمَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوْابِ يَسْتَهْزِءُونَ كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ) لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ 6 (الحجر: ۱۲-۱۶) پھر فرمایا:۔سورۃ الحجر سے یہ چند آیات جو میں نے آج کے جمعہ کے لیے منتخب کی ہیں ان کا ترجمہ یہ ہے کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کے پاس کوئی رسول آئے اور وہ اُس سے استہزاء کا سلوک نہ کریں یا جب بھی کبھی اُن کے پاس کوئی رسول آتا ہے۔وہ اس کے سوا کچھ نہیں کرتے کہ اُس سے تمسخر کرتے ہیں اور استہزاء کا سلوک کرتے ہیں۔كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِینَ اسی طرح ہم مجرموں کے