خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 549
خطبات طاہر جلدے 549 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۸ء بات لکھی جاتی ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ اگر خدا تعالی خود انبیاء کے منکرین کو استہزاء کا طریق سکھاتا ہے اور اُن کے دلوں میں یہ بات جما دیتا ہے نقش کر دیتا ہے کہ تمہیں بہر حال میرے بھیجے ہوؤں سے مذاق کرنا ہے اور استہزاء اور تمسخر کا سلوک کرنا ہے تو اُن کا پھر کیا قصور۔لیکن اس سوال کا جواب اسی آیت میں اس کے آخری حصے بیان میں فرما دیا گیا فِي قُلُوبِ الْمُجْرِ مِيْنَ ہم یہ نصیبہ مجرموں کا بناتے ہیں۔اس سے ایک بات خوب کھل گئی کہ جب خدا تعالی اپنے بندوں کو بھیجا کرتا ہے بنی نوع انسان کی اصلاح کے لیے تو دراصل وہ قوم مجموعی بحیثیت قوم مجرم ہو چکی ہوتی ہے۔اُس میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں، استثناء بھی موجود ہوتے ہیں لیکن ایک بھاری تعداد اس قوم میں جرم کرنے والوں کی ہوتی ہے۔پس در اصل جرم کی سزا میں صداقت سے محرومی بھی شامل ہے۔پس خدا تعالی کی طرف سے کوئی ظلم نہیں ہوتا کہ ان لوگوں کو صداقت پہچاننے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔فرمایا وہ مجرم ہیں اور اس قسم کے مجرم ہیں کہ اُس جرم سے باز آنے والے نہیں۔ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ وہ صداقت سے محروم کر دیئے جاتے ہیں۔پس اسی وجہ سے وہ صداقت سے محروم نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دل پر نقش کر دیا ہے کہ تم لازما صداقت کا انکار کرو گے بلکہ جرم کے نتیجے میں یہ اُن کو سزا ملتی ہے۔چنانچہ اس مضمون کو خوب کھول دیا لَا يُؤْمِنُونَ ہے وہ کبھی بھی اُس خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان نہیں لائیں گے وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ اور ان سے پہلے ایسے لوگوں کی سنت گزر چکی ہے۔جو کسی صورت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرسلین اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان نہیں لائے اور اسی حالت میں وہ ہلاک ہو گئے۔دوسرا پہلو وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاء میں یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ ان کا انکار اس وجہ سے نہیں کہ ان کو کوئی نشان نہیں دکھایا جاتا۔لیکن اس مضمون کے اس حصے کو میں بعد میں بیان کروں گا۔پہلے اس پہلے حصے سے متعلق کچھ مزید باتیں میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا سنت میں دو پہلو ہیں۔پہلوں کی سنت کیا ہے۔وہ جو خود کرتے رہے تحقیر اور استہزاء اور تمسخر۔یہ ایک ان کی سنت ہے اور ایک سنت وہ ہے جو خدا نے اُن پر جاری فرمائی اور وہ اُن کا بد انجام ہے۔اس سے متعلق قرآن کریم میں متعدد آیات ہیں جو اس مضمون کو مختلف رنگ میں کھول کھول کر بیان فرما رہی ہیں جیسا کہ فرمایا قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ وہی لفظ سنت ہے جس کی جمع