خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 50
خطبات طاہر جلدے 50 خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء اتناہی روپیہ مہیا ہو گیا ہے جتنا صد سالہ جو بلی کے باہر کے وعدوں کا نصف ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ صد سالہ جو بلی کے لئے جماعت نے غیر معمولی کوشش سے اپنے آپ کو تیار کیا تھا اپنی جیبیں دیکھیں آئندہ پندرہ سال تک آمد کا حساب لگایا۔ تب انہوں نے وعدے کئے تھے۔ اور ان سب تحریکات کے بعد یہ تحریک ہوئی ہے جبکہ بظاہر جیبیں خالی تھیں اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے جماعت کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ نہ صرف یہ کہ جتنے قرآن کریم کے لئے اخراجات کا مطالبہ تھا وہ سارے پورے کر دئے بلکہ اس سے آگے پیش کر دیے۔ اب تو بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ وعدہ آتا ہے تو پھر ہم تلاش کرتے ہیں کہ اب کونسی نئی زبان ڈھونڈی جائے جس کے لئے یہ وعدہ ملا ہے ۔ یہ عجیب احسان ہے خدا تعالیٰ کا بہت ہی عظیم الشان احسان ہے یہ الفاظ میں بیان ہو ہی نہیں سکتا اور لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ نے ایسا جنون ایسا پیار عطا کر دیا ہے اس کام کے لئے کہ روح کو نئی زندگی عطا کر نیوالے عجیب عجیب خطوط ملتے رہتے ہیں۔ ایک نوجوان کا پاکستان سے خط آیا ہے ان کو خدا تعالیٰ نے ایک جگہ کام دیا ، اس کام کے لئے انہوں نے پیسے اکٹھے کر کے ضرورت کے مطابق ایک موٹر بھی خریدی۔ لیکن جب یہ تحریک ہوئی تو اس وقت ان کے پاس پھر کوئی اور پیسہ بچا نہیں تھا۔ مجھے ان کا خط ملا کہ میں اس بارہ میں سوچتا رہا اور دن بدن زیادہ مجھ پر یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ کوئی عام تحریک نہیں ہے گزشتہ چودہ سوسال میں دنیا کی کسی جماعت کو ایسی توفیق نہیں ملی ، ایسے عجیب کام کی طرف بلایا ہی نہیں گیا کہ چند سالوں کے اندرسوز بانوں میں قرآن کریم کے تراجم پیش کر دو اور تمام دنیا میں قرآن کریم کے تراجم پھیلا دو۔ اب تک کی تاریخ میں مل کر بھی اتنی زبانوں میں ترجمے نہیں ہوئے ۔ تو میں نے کہا کہ آئندہ تو بہت ہوں گے انشاء اللہ ہر زبان میں دنیا کے چپے چپے میں قرآن کریم کے تراجم ملیں گے لیکن اس وقت کو دنیا ہمیشہ حسرت سے یاد کرے گی کاش ہم بھی اس وقت زندہ ہوتے ، کاش ہمیں بھی توفیق ملی ہوتی ۔ اس نوجوان نے ، وہاں بھی اس کی عبارت ایسی خوبصورت ہوگئی ہے ایسی زندہ ہو گئی ہے ، عام حالات میں میرا خیال نہیں تھا کہ اس کو اچھی اردو لکھنی آتی ہے لیکن یہاں تو جذبہ ایمان سے زبان بن رہی ہے بہت ہی پر لطف زبان میں اس نے اپنے دل کا ماجرا لکھا ہے کہ یہ یہ میں نے سوچا، یہ یہ میرے دل پہ گزرتی رہی ۔ وہ کہتے ہیں کہ آخر ایک دن خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ میں نے کار بیچ دی اور پچاس ہزار روپے مجھے اس کے ملے اور وہ میں نے اس تحریک میں