خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 49

خطبات طاہر جلدے 49 49 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء کام ہمارے خرچ پر چلایا جائے لیکن بڑا حصہ ان زبانوں کا کم و بیش ایک سوز بانوں تک انشاء اللہ سیدنا بلال فنڈ سے پورا ہوگا اور یہ قربانی بظاہر اس وقت جماعت کی اکثریت دے رہی ہے لیکن وہ یہ عہد کر چکی ہے کہ یہ قربانی ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے والوں کی طرف سے جو اس وقت پاکستان میں مصائب میں سے گزر رہے ہیں یا شہید ہونے والوں کی طرف سے ہے یا ان کے ورثاء کی طرف سے ہے اس لئے اس بات کو یا درکھیں کہ یہ تو فیق تو آپ کو ملی ہے لیکن آپ نے خدا سے یہ نیت باندھی ہے کہ اس کا ثواب ان لوگوں کو ملے۔دار الیتامی کی تحریک میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک ہی دوست کو خدا نے توفیق بخشی تھی کہ موجودہ جو سکیم ہے اس کے مطابق وہ پورا دار الیتامی تیار کرنے کا خرچ دے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا باقی لوگوں کو محروم نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی اور شامل ہونا چاہے تو ہو جائے۔چنانچہ اس کے متعلق بھی آج ہی ایک جگہ سے ایک خطیر رقم ملی ہے اور ان صاحب نے بھی اصرار کیا ہے کہ مجھے بھی دار الیتامی کی سکیم میں شامل کیا جائے اور بھی پہلے ملتی رہی ہیں چنانچہ وہ سب رقمیں انشاء اللہ دار الیتامی کی تعمیر میں خرچ ہوں گی۔Elsalvador کے یتامیٰ کے متعلق اگر چہ جماعتی کوششوں کے باوجود ہمیں کامیابی نصیب نہیں ہوسکی کہ بحیثیت جماعت ہمیں بیتا میا مل جائیں لیکن بعض لوگوں نے اس تحریک میں شمولیت کی نیت کی تھی تو وہ بعض اور یتیم لے کر پالنے لگ گئے ہیں اور اس کی مجھے اطلاع مل رہی ہے یہ بہت خوشکن رجحان ہے۔ساری جماعت کو میں پھر یاد دہانی کرواتا ہوں کہ ضروری نہیں کہ السلواڈور کے یتیم ہوں دنیا میں جہاں بھی یتیم ہے اس کی خدمت کرنا ایک بہت اچھا کام ہے۔اگر چہ بظاہر یہ مالی قربانی کی تحریک نہیں تھی مگر عملاً ایک نئے خاندان میں ایک ذمہ داری کا اضافہ کرنا ایک مالی تحریک ہی بن جاتی ہے۔مختلف زبانوں میں تراجم قرآن کریم کی اشاعت کی تحریک جو تھی اس نے ایک نئی شکل گزشتہ جلسہ سالانہ پر اختیار کر لی کہ ایک ایک شخص یا ایک ایک خاندان یا بعض صورتوں میں ایک ایک جماعت ایک پورے قرآن کریم کا ترجمہ طباعت واشاعت وغیرہ کا خرچ پیش کرے۔یہ تحریک بھی اللہ کے فضل سے ایسی مؤثر اور ایسی بابرکت ثابت ہوئی ہے کہ اپنی ذات میں اس تحریک میں کم و بیش