خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 51
خطبات طاہر جلدے 51 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء پیش کر دیئے۔میں اس لئے نہیں لکھ رہا کہ میں نے یہ قربانی کی ہے۔کہتا ہے میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ اس سے مجھے اتنا مزہ آیا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔اس لذت کا بیان میرے احاطہ تحریر میں نہیں آسکتا اور کہتا ہے اب میں سائیکل پر جاتا ہوں اور ہر پیڈل پر مجھے مزہ آرہا ہوتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہوں۔یہ ہے اظہار تشکر جو ہم نے منانا ہے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے احسانات میں سے قربانی پیش کرنے کا احسان ہے اور یہ اپنی ذات میں جزا ہے۔بھول جائیں اس بات کو کہ اس کے بعد آپ کو جزا ملے گی۔یہ اپنی ذات میں جزا ہے، ایسی جزا ہے جس کی کوئی اور جز ابدل نہیں بن سکتی۔انسان کو ایک نئی عظمت عطا کرنے والی چیز ہے، ایک نئی روح عطا کرنے والی چیز ہے۔اس پر مجھے وہ زہ والی کہانی پھر یاد آئی کہ دنیا کے معاملات میں تو پھل دیر کے بعد لگا کرتے ہیں جس طرح ایک بعد کے دور کے خلیفہ اور ایک بوڑھے کسان کی آپس کی گفتگو کا ذکر ملتا ہے پھر میرا ذہن اسی طرف چلا گیا کیونکہ وہ واقعہ اس موقع پر خوب چسپاں ہوتا ہے۔ایک خلیفہ یعنی خلیفہ نام کے تھے مسلمان بادشاہ تھے وقت کے وہ سیر کے لئے باہر نکلے ہوئے تھے۔رستہ میں اس نے ایک کسان کو دیکھا جو بہت بوڑھا تھا اسی نوے سال کی عمر تھی۔وہ کھجور کے پودے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہا تھا جس طرح چاولوں کی پنیری کو منتقل کیا جاتا ہے۔با دشاہ نے اس کے پاس ٹھہر کر اس سے مذاق کے طور پر پوچھا بڑے میاں ! آپ کی عمر تو اتنی ہوگئی ہے کہ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ اگلے سال تک بھی آپ زندہ رہیں گے اور دیکھ میں یہ رہا ہوں کہ آپ کھجور کے درخت لگا رہے ہیں جن کو پھل تقریبا نو دس سال میں لگتا ہے، تو کیا مقصد ہے اس محنت کا ؟ اپنے آپ کو کیوں مشقت اور تکلیف میں ڈالتے ہیں؟ بوڑھے نے بادشاہ کی طرف دیکھ کر کہا کہ بادشاہ سلامت ! آپ نہیں جانتے میں نے جن درختوں کا پھل کھایا ہے وہ میرے بزرگوں کی محنت تھی۔میں چاہتا ہوں کہ میری محنت کا پھل آئندہ نسلیں کھائیں اور اس طرح میں بزرگوں کے احسان کا بدلہ آئندہ آنے والوں پر احسان کر کے چکا دوں۔یہ جواب بادشاہ کو اتنا پیارا لگا کہ اس کے منہ سے تحسین کے طور پر لفظ ”زہ نکل گیا اور یہ لفظ ”زہ“ وہ بے ساختہ کسی اچھی بات پر تعریف کے طور پر کہا کرتا تھا لیکن وزیر کو یہ حکم تھا کہ جب میں کسی بات پر زہ“ کہہ دوں تو تم نے فوراً اشرفیوں کی ایک تھیلی اس کو میری طرف سے پیش کرنی ہے۔چنانچہ اس کے منہ سے ”زہ “ نکلا اور وزیر