خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 536

خطبات طاہر جلدے 536 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء گویا حکومت پاکستان ہے اُس نے فیصلہ کرنا ہے۔کبھی کسی مباہلے کا فیصلہ اس طرح ہوا ہے کہ فلاں حکومت نے اعلان کر دیا کہ فلاں ہار گیا فلاں جیت گیا۔اس لیے یا تو ان کو مباہلہ کی الف ب سے بھی واقفیت نہیں اور یا پھر خدا کا کوئی خوف نہیں تمسخر کے رنگ میں اس بات کو ٹال رہے ہیں اور جھوٹی تعلی کے ذریعے یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا پر یہ ظاہر کر دیں گے کہ یہ جیتیں ہوئے ہیں۔یہ وہ چیز ہے جو بہت خطر ناک ہے کیونکہ ان سب باتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا پر ان کا کیا اثر پڑتا ہے۔یہ ان کے پیش نظر ہے صرف۔خدا کو اس معاملے میں داخل کرنے کے متعلق انہوں نے کبھی غور نہیں کیا اور اس بات پر سنجیدہ نہیں ہیں۔یہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے مجھے ان کے متعلق خوف پیدا ہوتا ہے کیونکہ اگر مباہلے سے فرار خدا کے خوف کے نتیجے میں ہو تو جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے اور خدا کی رحمت سے توقع رکھی جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو جھوٹا ہونے کے باوجود بھی خدا تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے اور درگزر فرماتا ہے لیکن اگر مباہلے سے فرار خدا سے خوف کے نتیجے میں نہیں بلکہ بے خوفی کے نتیجے میں ہو اور جسارت کے نتیجے میں ہو تو پھر عقل یہی نتیجہ نکالتی ہے کہ اس سے برعکس نتیجہ نکلے گا۔ان لوگوں کا مباہلے سے فرار معلوم ہوتا ہے خدا کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا کے معاملے میں بے خوفی سے ہے یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی خدا ، ودا نہیں ہے جو اس معاملے میں دخل دے گا جو ہمیں پکڑے گا۔ہماری فرار کی راہیں بند کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔اُس کی لعنت ہمارا پیچھا کر سکتی ہے۔ان باتوں کا کوئی خوف نہیں ہے۔وہ سمجھتے ہیں چالا کی سے، ہوشیاری سے، چرب زبانی سے اگر ہم دنیا پر اور اپنے مریدوں پر یہ اثر ڈال دیں کہ ہم جیت گئے اور دشمن ہار گیا۔تو یہی مباہلے کا انجام ہے اور یہی بہت کافی ہے حالانکہ یہ کافی نہیں ہے۔اب تک خدا تعالیٰ نے مباہلے کے بعد جو نشان ظاہر فرمائے ہیں۔اُس سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ ان کا جھوٹا ہونا دن بدن کھلتا چلا جا رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام کہ مولوی ننگے ہو گئے۔( تذکرہ صفہ نمبر: ۳۲۸) وہ ان کے اوپر صادق آ رہا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا۔ایک مہینے کے بعد ہی وہ شخص جسے مولا نا اسلم قریشی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔مردوں میں سے زندہ ہو گیا اور گمشدگان میں سے ایک دم رونما ہوا اور اُس کے متعلق انہوں نے حلف اُٹھا اُٹھا کر اور واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیے ہوئے تھے کہ نہ صرف یہ کہ