خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 537
خطبات طاہر جلدے 537 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء اس کو اغوا کیا گیا ہے بلکہ اغوا کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔یہاں تک اعلان تھے کہ آپ قصر خلافت کی عمارت کو اکھاڑیں اُس کی زمین میں سے یہ مولوی کی لاش نکلے گی۔یہ اعلان کیے گئے تھے کہ اگر ہم جھوٹے ثابت ہوں تو ہمیں بر سر عام پھانسیاں دی جائیں اور کوڑے لگائے جائیں۔وہ ساری باتیں بھول گئے ہیں اور ان مولوی صاحب کے ظاہر ہونے پر شرمندگی کے بجائے مزید جھوٹ بول رہے ہیں۔اب یہ بات ہے جس سے میں ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بے خوف ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کا کوئی خوف نہیں کیونکہ سارے علماء جانتے ہیں کہ اس مولوی کے نکل آنے سے رونما ہونے سے یہ جھوٹے پڑچکے ہیں اور یہ سارے علماء جانتے ہیں کہ وہ جو بیان جواب یہ دے رہے ہیں مولوی کی گمشدگی کے متعلق وہ جھوٹے ہیں۔ان میں اب کوئی ابہام کی بات نہیں رہی۔آنکھیں کھولتے ہوئے جانتے بوجھتے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرے جھوٹ بول رہے ہیں۔ایک لعنت سے بچنے کے لیے دوسری لعنت میں مبتلا ہورہے ہیں۔اس لیے اس قسم کا مد مقابل ہمارے سامنے ہے جس قسم کا مد مقابل غالباً تاریخ نے پہلے نہیں دیکھا۔آنحضرت ﷺ نے آئندہ زمانے میں یعنی حضور اکرم کے زمانے کی نسبت سے، آئندہ زمانے میں پیدا ہونے والے اپنی اُمت سے بظاہر وابستہ بعض علماء کے متعلق یہ اعلان فرمایا تھا کہ علماء هم شر من تحت اديم السماء۔(مشكوة كتاب العلم الفضل صفحہ ۴۳/۶) پس دیکھئے یہ بھی فرمایا کہ میری اُمت کے علماء فرمایا عـلــمــاءُ هُم ، اُن کے علماء اکثر آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔پس وہ علماء جن کی ذمہ داری ہے کہ شریعت کی حفاظت کریں ، قرآن کریم کے مضمون کے تقدس کا خیال رکھیں۔اگر وہ خود اُس قرآن کریم کے مضمون کے تقدس سے کھیلنے والے بن جائیں ، اُس کی ناموس سے کھیلنے والے بن جائیں اور جانتے بوجھتے ہوئے کھلم کھلا ایک جھوٹ کے بعد دوسرا جھوٹ بولنا شروع کر دیں تو اگر یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد اس صورت حال پر صادق نہیں آتا تو پھر اور کس صورتحال پر صادق آتا ہے لیکن اب یہ معاملہ بحثوں پر فیصلہ پانے والا معاملہ نہیں ہے۔اب یہ معاملہ بہت ہی سنجیدہ صورت اختیار کر چکا ہے اور میں جماعت کو بار بار یہ یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ اگر چہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بار بارنشان ظاہر ہوں گے لیکن نشانوں کے اظہار پر اُچھلیں اور کو دیں نہیں بلکہ مزید گریہ وزاری اختیار کریں ،مزید ابتہال سے کام لیں اور استغفار سے کام لیں اور اگر کوئی خدا کے خوف سے بھاگتا ہے تو بے وجہ اُس کا تعاقب نہ کریں بلکہ اُس