خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 535

خطبات طاہر جلدے 535 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء اور اب پھر پار کرنے کے لیے آئی ہے۔تو اُس ہندو بچی کومباہلے کا چیلنج کیوں نہیں دے دیتے۔وہ بھی چھلانگ لگاتی ہے آپ بھی چھلانگ لگا دیں اور جو چینل کے پار اتر جائے گاوہ سچا ثابت ہو جائے گا۔ایسے لغو، بے معنی قصے بنائے ہوئے ہیں مباہلے کے صاف پتا چلتا ہے کہ تمسخر کی عادت ہے اور کوئی سنجیدگی نہیں ہے ان میں دین کے معاملے میں۔نہ علم ہے دین کیا ہے، نہ اس معاملے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔خدا کی عدالت میں تمسخر سے ، گالیاں دے کر یا شور مچا کر سمجھتے ہیں کہ ہم اپنا مقدمہ جیت جائیں گے لیکن فی الحقیقت خدا کی عدالت میں مقدمہ لے جانا ہی نہیں چاہتے۔پتا ہے کہ ہم اس عدالت سے کامیاب لوٹ نہیں سکتے۔اس لیے کوئی ان میں سے یہ نہیں کہتا کہ ہمارا مقدمہ خدا کی عدالت میں ہے اور خدا فیصلہ فرمائے گا۔ہر بیان کو آپ پڑھ کر دیکھیں تو آخر پر دنیا کے فیصلے کی طرف لوٹتے ہیں یا دنیاوی مقابلوں کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ایک صاحب نے پاکستان سے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے یہ پیغام بھیجا ہے کہ دنیا کی کسی چوٹی کی عمارت سے یا پہاڑی سے کسی بلندی سے آپ بھی چھلانگ لگائیں میں بھی چھلانگ لگاتا ہوں جو بچ جائے وہ سچا جو نہ بچے گا وہ جھوٹا۔حالانکہ یہ وہی چیلنج ہے جو شیطان نے مسیح کو دیا تھا اور مسیح نے اسی سے اُس کو پہچانا تھا کہ ہے شیطان۔تو بلندی سے چھلانگ لگا دو اگر تم خدا کے پیارے ہوئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بچالے گا۔ایسی باتیں جو انبیاء گزشتہ کی تاریخ سے ثابت شدہ ہیں کہ اُن کا دین سے تعلق نہیں بلکہ شیطانی امور ہیں۔اُن کو اپناتے ہوئے بھی نہیں شرماتے اور ان کے نزدیک یہ ہے مباہلہ ، اس رنگ میں مباہلہ ہونا چاہئے۔ایک صاحب ہیں لاہور میں قادری صاحب جو ویسے تو بریلوی ہیں اور عموماً بریلوی اس چیلنج کو قبول نہیں کر رہے۔اگر تو خدا کا خوف ہے تو ہماری دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو بچائے اور اُن کے پر دے رکھ لے لیکن وہ بریلوی ہوتے ہوئے بھی اس معاملے میں دیو بندیوں کے ساتھ ہیں۔انہوں نے اعلان کیا ہے کہ فلاں تاریخ کو ہم منٹو پارک پہنچ جائیں گے۔اُس تاریخ کو مرزا طاہر احمد کا وہاں اپنے ساتھیوں سمیت فلاں وقت رات کے بارہ بجے وہاں موجود ہونا ضروری ہے اور اگر وہ نہ پہنچے تو پھر ہم ایک مہینہ انتظار کریں گے۔ایک مہینے کے بعد کیا ہوگا، پھر ہم حکومت پاکستان سے کہیں گے کہ ان کے ہارنے کا اور ہمارے جیتنے کا اعلان کر دیں۔ان کی عدالت ہی دنیا کی عدالت ہے،ان کا خدا