خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 509
خطبات طاہر جلدے 509 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء ایسے محرکات ہیں جن کے نتیجہ میں انسان میں بسا اوقات گھر واپس آنے کے بعد یہ طاقت نہیں رہتی کہ اپنی اولاد کی طرف صحیح توجہ دے سکے۔اس لئے تمام دنیا میں جہاں جہاں بھی جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ ނ کے فضل سے موجود ہے اور اس وقت 114 ممالک سے زائد ملکوں میں خدا تعالیٰ کے فضل۔جماعت احمدیہ قائم ہو چکی ہے ہمیں آج کے بعد کا بقیہ سال خصوصیت سے نماز کو قائم کرنے کی کوششوں میں صرف کرنا چاہئے۔یہ درست ہے کہ خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں بھی ہیں انصار اللہ کی بھی ذمہ داریاں ہیں، اور نظام جماعت کی من حیث الجماعت بھی ذمہ داریاں ہیں لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تربیت کا ہمیں گر سکھایا وہ یہ نہیں تھا کہ تم اپنے نظام کے اوپر تربیت کے کاموں کا انحصار کرو بلکہ فرمایا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسُّوَلٌ عَنْ رَعِيَّته ( بخاری کتاب الجمعہ حدیث نمبر ۸۴۴) که خبر دار ! تم میں سے ہر ایک ایک چرواہا ہے، ایک گڈریا ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔اتنا عظیم الشان تربیت کا ایک نقطہ ہے کہ جسے اگر قو میں یادرکھیں یا مسلمان یا در کھتے تو کبھی بھی وہ انحطاط پذیر نہیں ہو سکتے تھے۔ہر فرد بشر جو ایک گھر رکھتا ہے یا گھر سے بڑھ کر اپنے معاشرے میں کوئی حیثیت رکھتا ہے یا ایک شہر کے معاشرے سے بڑھ کر ملک یا قوم میں کوئی حیثیت رکھتا ہے۔ایسے ہر شخص پر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان اطلاق پاتا ہے اور کیسے خوبصورت انداز میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرمایا۔فرمایا تم میں سے ہر ایک، ایک گڈریا ہے مالک نہیں ہے۔رَاعٍ اس گڈریے کے متعلق استعمال ہوتا ہے جولوگوں کی ، مالکوں کی بھیڑیں لے کر ان کو چرانے کے لئے باہر جاتا ہے تو یہ نہیں فرمایا کہ تم اپنی اولاد کے مالک ہو اور اپنی اولاد کے بارے میں تم پوچھے جاؤ گے یا جن لوگوں پر تمہارا اثر ورسوخ ہے یا جس قوم میں تمہارا نفوذ ہے ان لوگوں یا اس قوم کے متعلق اس لئے پوچھے جاؤ گے کہ تم ان پر کوئی مالکانہ حقوق رکھتے ہو۔فرمایا ہر گز نہیں تم جس حیثیت میں بھی ہوا ایک چھوٹے دائرے میں ایک مقام تمہیں نصیب ہوا ہے یا ایک وسیع تر دائرے میں ایک مقام تمہیں نصیب ہوا ہے تمہارا مقام ایک گڈریئے کا سا مقام ہے اور جو کچھ تمہاری رعیت میں ہے جو کچھ تمہارے تابع فرمان لوگ ہیں یہ سارے خدا کی ملکیت ہیں، خدا کی بھیڑیں ہیں اور جس طرح بھیڑوں کا مالک گڈریے سے ان کا حساب لیا کرتا ہے اور