خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 508
خطبات طاہر جلدے 508 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء نتیجہ میں ہمیں کیا کہتی ہے۔جب تک آپ سچائی کے اقرار کی جرات پیدا نہیں کرتے آپ کی دینی حالت درست نہیں ہوسکتی، آپ کی اخلاقی حالت درست نہیں ہوسکتی۔آپ کی روحانی حالت درست نہیں ہوسکتی۔ہمارا حال سب خدا کے سامنے ہے اور خدا کی نظر کے سامنے ہم ہمیشہ کھلی ہوئی کتاب کی طرح پڑے رہتے ہیں۔اس لئے ہمارے جو بھی اقرار ہیں وہ اپنے خدا کے حضور ہیں اور یہ شعور بیدار کرنے کے لئے جماعت کے دلوں کو جھنجھوڑنے کے لئے میں نے ضروری سمجھا کہ آج اس خطبہ میں آپ کو خصوصیت کے ساتھ اس مرض کی طرف توجہ دلاؤں جس کے متعلق خطرہ ہے کہ ہماری اگلی نسلوں کے لئے بعض صورتوں میں مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خصوصیت کے ساتھ مغربی ممالک میں یہ مرض پایا جاتا ہے اور بڑھ رہا ہے لیکن میں جب غور کی نظر سے مشرقی ممالک کو دیکھتا ہوں تو ان کی حالت بھی کوئی اس سے بہت زیادہ بہتر نہیں پاتا۔یہاں تک کہ جب میں پاکستان کے حالات پر نظر ڈالتا ہوں تو وہاں کی جماعتوں کی حالت بھی کئی پہلوؤں سے قابل فکر دیکھتا ہوں۔مجھے ایک لمبا تجر بہ خدام الاحمدیہ کے ساتھ وابستہ رہنے کے نتیجہ میں اور وقف جدید کے ساتھ وابستہ رہنے کے نتیجہ میں اور انصار اللہ کے ساتھ وابستہ رہنے کے نتیجہ میں دیہاتی جماعتوں میں پھرنے کا تجربہ ہوا۔دیہاتی جماعتوں کے حالات کو قریب کی نظر سے دیکھنے کا موقعہ ملا اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے میرا مزاج ایسا بنایا ہے کہ اعدادوشمار پر نظر رکھنے کی عادت ہے۔اس لئے میں نے تمام دوروں میں ہمیشہ تقریریں کرنے کی بجائے تفصیل سے حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔بعض مجالس میں تقریر کے پروگرام ہوتے ہوئے بھی اس پروگرام کو منسوخ کیا اور نو جوانوں اور بچوں کو کھڑا کر کے ان سے پوچھنا شروع کیا کہ بتاؤ تم نماز میں کیسے ہو تمہیں نماز پڑھنی آتی بھی ہے کہ نہیں، آتی ہے تو پڑھ کے سناؤ اور سناتے ہوتو پھر اس کا مطلب بھی بتاؤ غرضیکہ بڑی تفصیل سے میں نے جائزہ لیا ہے اور مسلسل ان دوروں کے وقت جماعت کو متنبہ کرتا رہا ہوں کہ جس حالت میں ہم آج اپنے بچوں کو پاتے ہیں یہ ہرگز اطمینان بخش نہیں ہے۔اس لئے محض مغرب کو متہم کرنا بھی مناسب نہیں۔مغرب کے ملکوں کے بعض زائد ایسے محرکات ہیں جو نماز سے غیر اللہ کی طرف کھینچنے میں مزید ابتلا پیدا کرتے ہیں لیکن مشرقی ممالک میں کچھ اور قسم کے محرکات ہیں۔وہاں کی غربت ، وہاں کی بدحالی، وہاں کے موسموں کی کڑی آزمائشیں بہت سے