خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 510 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 510

خطبات طاہر جلدے 510 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء بعض دفعہ ایک ایک بھیڑ گوگن کے وصول کرتا ہے اور نقصان کے عذر قبول نہیں کرتا۔اسی طرح تم میں سے ہر ایک خدا کے حضور جوابدہ ہے۔تم اپنی اولاد کے بھی مالک نہیں، یہ تمہارے سپر دامانتیں ہیں۔اس لئے سب سے اہم ذمہ داری خود گھر والے کی ہے اور پھر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے تفصیل سے یہ ذکر بھی فرمایا کہ گھر کی مالکہ بھی اپنے دائرہ اختیار میں مسئولہ ہوگی اس سے بھی پوچھا جائے گا اور كُلُّكُمُ نے تو سارے بنی نوع انسان کو محیط کر لیا ہے کسی قسم کا کوئی انسان بھی اس فرماں کے دائرہ کار سے باہر نہیں رہا۔اس لئے یہی وہ بہترین گر ہے جسے سمجھنے کے بعد یہی وہ بہترین ارشاد ہے جس پر عمل کرنے کے بعد ہم فی الحقیقت زندہ رہنے کا سبق سیکھ سکتے ہیں۔اس لئے ہر وہ شخص جو کسی حیثیت سے کوئی اثر رکھتا ہے اسے نماز کا نگران ہو جانا چاہئے۔ہر باپ کو اپنی بیوی اور اپنے بچوں کا نگران ہونا چاہئے۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بیوی اور اپنے بچوں کو با قاعدہ مستقل مزاجی کے ساتھ نماز کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔بہت پرانی بات ہے ہزاروں سال پہلے کا واقعہ ہے، تمام انبیاء قوم کو نصیحت کیا کرتے ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام اس معاملے میں ایسا دل ڈال کر ایسی جان ڈال کر نصیحت فرمایا کرتے تھے اور ایسے بے قرار رہتے تھے اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ کے پیارا اور محبت کی نظر ان پر پڑی اور قرآن کریم کی دائمی کتاب میں ان کا ذکر فر ما دیا۔اس سے ایک اور سبق بھی ہمیں ملتا ہے کہ ہم کوئی کام خواہ کیسے ہی مخفی طور پر کریں اور دنیا کی نظر سے اوجھل رہ کر بھی کریں، خواہ آباد شہروں کے بیچ میں کریں یا صحراؤں کے درمیان ایک چھوٹی سی بستی میں کریں، شہر کی گلیوں میں کریں یا اپنے گھر کے خلوت خانوں میں کریں خدا کی نظر ہر کام پر پڑتی ہے اور جس کام کو خدا قبولیت عطا فرماتا ہے اس کام پر محبت اور پیار کی نظر رکھتا ہے اور اس کام کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نصیحت کی جو جزاء آپ کو اخروی دنیا میں ملے گی وہ ایک الگ جزاء ہے لیکن آپ کی مثال کو قیامت تک کے لئے دنیا کے سامنے زندہ کر کے پیش کر دینا خود اپنی ذات میں ایک اتنی عظیم الشان جزاء ہے کہ اس کی مثال کم دنیا میں دکھائی دیتی ہے۔پس وہ اسماعیلی صفت اپنے اندر پیدا کریں اپنی بیویوں کی نمازوں کے متعلق متوجہ ہوں، اپنے بچوں کی نمازوں کی طرف متوجہ ہوں ، اپنی بچیوں کی نمازوں کی طرف متوجہ ہوں اور یا درکھیں کہ