خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 501

خطبات طاہر جلدے 501 خطبہ جمعہ ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء دو۔اس کی چیز ہے تمہارا فرض ہے اس کو دے دو کیوں نہیں دیتے آخر بعض عاریہ چیز مانگ لیتے ہیں اور واپس نہیں کرتے۔مجھے بھی تجربہ ہے اس کا۔پوچھا گیا کہ واپس کیوں نہیں کرتے آپ جی آپ کو کیا ضرورت ہے پڑی ہوئی ہے ہمارے پاس، ہم استعمال کر رہے ہیں۔جس کی چیز ہے اس کو دو اس کوضرورت ہو یا نہ ہو جہنم میں پھینکے۔تمہیں اس سے کیا ہے۔تمہارے پاس جب تک ہے تم غیر کی چیز پر قابض ہو، غاصب ہوا اگر اس نیت سے رکھے ہوئے اور اگر غفلت کر رہے ہو تو پھر بے حسی ہے۔ایسی بے حسی ہے جو تمہیں دوسری بیماریوں میں مبتلا کرے گی کیونکہ بے حسی کا مرض سے بڑا گہرا تعلق ہے۔یہ حسن ہی ہے جو انسانی جسم کو مدافعت کے لئے آمادہ کرتی ہے، کئی قسم کے خطرات سے بچاتی ہے جہاں بے حسی ہے وہاں سو قسم کی بیماریوں کو انسان دعوت دیتا ہے۔تو انسانی معاشرے میں لین دین کی جو بیماریاں ہیں اس کا آغاز یہاں سے شروع ہوتا ہے، یا درکھیں جو چیز امانت ہے جب تک آپ کے پاس ہے آپ کے اوپر بوجھ رہنی چاہئے اور جب وہ اتار دیں تو پھر آپ ہلکا پھلکا محسوس کریں یہ عادت آپ کو پڑ جائے تو آپ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کبھی بھی معاشرے پر بوجھ نہیں بن سکتے۔اور بھی چند باتیں بیان ہوسکتی ہیں وقت زیادہ ہو گیا ہے میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں عمومی طور پر جو باتیں ہیں وہ پیش کر دی ہیں۔ایک صرف یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ انگلستان کی جماعت چونکہ قربانی یہاں نہیں دے سکتی اکثر صورتوں میں۔اس لئے وہ قادیان یار بوہ بھجوا دیتے ہیں قربانی۔یعنی پیسے بھیج دیتے ہیں کہ وہاں قربانی کر دی جائے۔جہاں تک قادیان کا تعلق ہے جو قادیان بھجواتے ہیں وہ بے شک بھیجتے رہیں لیکن ربوہ کو ایسی ضرورت نہیں ہے آپ کی قربانی بھجوانے کی۔اس لئے جو دوست بھی قربانی دینا چاہتے ہیں اس دفعہ اور قادیان کے لئے وعدہ نہیں کر چکے۔ان کو یہاں جلسے کے نظام کے سامنے قربانی کی رقم پیش کر دینی چاہئے کیونکہ عید ہمارے جلسے کے تیسرے دن آرہی ہے تو انشاء اللہ یہاں قربانی اس رنگ میں نہیں ہو سکتی کہ آپ چھری پھیر میں خودا اور پھر اسی کا گوشت کھا کر افطار کریں اپنا صبح کا روزہ بلکہ بعض دفعہ دوسرے دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن جو بھی قربانی آپ پیش کریں گے۔سارے جلسے کے مہمان اور آپ خود بھی اس میں انشاء اللہ تعالیٰ شریک ہو جائیں گے اور یہ اجتماعی قربانی بن جائے گی۔چالیس پونڈ انہوں نے تخمینہ لگایا ہے اخراجات کافی