خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 502 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 502

خطبات طاہر جلدے 502 خطبہ جمعہ ۵ ار جولائی ۱۹۸۸ء قربانی۔جو دوست بھی انگلستان کی جماعت کے قربانی دینے کا ارادہ رکھتے ہوں وہ (ہدایت اللہ ) بنگوی صاحب تک اپنی رقم پہنچادیں یا اپنے پریذیڈنٹ جماعت کو دے دیں۔پاکستان سے یا دوسری جماعتوں سے جو دور دور سے دوست تشریف لا رہے ہیں ان کو میں نے نصیحت کی ہے کہ وہ بوجھ نہ بنیں وہ اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھیں لیکن جو آنے والے ہیں یہ عام مہمان نہیں بڑے معزز مہمان ہیں اور خالصہ للہ آرہے ہیں اس لئے ان کے ساتھ دو ہر احسن سلوک کرنے کی کوشش کریں۔عام فرائض عدل کی حد تک تو خدا کے فضل سے لازماً آپ ادا کرتے ہیں۔احسان کی حد تک بھی ادا کرتے ہیں بعض صورتوں میں، ایتاء ذی القربی کرنے کی بھی کوشش کریں جہاں تک آپ کے بس میں ہو کیونکہ یہاں آنے والے بعض ایسے آنے والے بھی ہیں جن کو کبھی انگلستان جانے کا وہم و گمان بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔خواب و خیال بھی نہیں تھا کہ ہم انگلستان جائیں گے۔کوئی ارادہ کبھی دل میں نہیں تھا، کوئی خواہش نہیں تھی اور محض اللہ اس لئے کہ خلیفہ وقت پاکستان سے یہاں آیا ہوا ہے اور یہاں موجود ہے اس وجہ سے وہ یہاں آتے ہیں۔اس لئے ان کے للہی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ان کے جذبات کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے ، ان سے حسن سلوک اور محبت کا معاملہ کریں۔یہ آپ کے لئے عبادت ہوگی ، یہ آپ کے لئے نیکی ہوگی۔میں آپ کو دلچسپ بات سناتا ہوں گزشتہ سال کی اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہاں آنے والے کیسے کیسے لوگ ہیں۔انگلستان کی سرزمین نے کبھی ایسے لوگوں کی ہوا بھی نہیں دیکھی تھی۔ہمارے ایک لاہور کے بڑے ذمہ دار دوست ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک اور احمدی دوست بھی ساتھ تھے ان کے ویزہ آفس اسلام آباد میں۔وہاں ایک دیہاتی خاتون آئیں بڑی عمر کی اور انہوں نے آکے ویزے کی درخواست کی ایک ترجمان بھی ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وہ بیٹھے سن رہے تھے ان کی باتیں۔تو اس نے کہا کہ بی بی اتم کس لئے جارہی ہو اس عمر میں وہاں کیا کرنا ہے۔اس نے میرا اذ کر کیا کہ جی ہمارے امام وہاں ہیں ، جلسہ ہورہا ہے، بڑی دیر ہوئی ہے دیکھے ہوئے میں نے تو ضرور جانا ہے اس دفعہ۔خیر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا ابھی ویزا لگانے ہی لگا تھا تو آخر میں پوچھا کہ بی بی تمہارا وہاں رشتہ دار بھی ہے کوئی۔اس نے کہا ایک پتر ہے اوتھے۔اس نے کہا کہ پھر یہ کیوں نہیں کہتی کہ پتر نوں ملن جارہی آں۔اس کا جور د عمل تھا وہ سننے والا ہے۔بے اختیار بولی